اسرائیل نسل پرست ریاست بننے کا خطرہ مول لے رہا ہے

Image caption امریکی وزیر خارجہ نے بیان بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں دیا تاہم ان کی باتیں افشا ہو گئیں

امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری نے سینیئر انٹرنیشنل حکام سے کہا ہے کہ اسرائیل نے اگر جلد امن قائم نہیں کیا تو وہ نسل پرست ملک بن جانے کا خطرہ مول لے گا۔

ایک امریکی ویب سائٹ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ نے یہ بیان بااختیار سہ فریقی بین الاقوامی کمیشن کے بند کمرے میں ہونے والے اجلاس میں دیا۔

ڈیلی بیسٹ نامی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اجلاس میں شریک ایک اعلیٰ اہلکار نے جان کیری کے اس بیان کی ریکارڈنگ اسے فراہم کی ہے۔

ڈیلی بیسٹ کی خبر میں کیری سے یہ کلمات منسوب کیے گئے ہیں: ’دو ریاستی حل ہی واضح طور پر اس مسئلے کا اصل متبادل سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ اس طرح اسرائیل یا تو نسل پرست حکومت بن جائے گا یا پھر یہ بات اسرائیل کے بطور یہودی ریاست قیام کے امکانات ختم کر دے گی۔‘

کیری نے مزید کہا کہ ’اگر آپ یہ بنیادی حقائق ذہن میں رکھیں، (تو معلوم ہو گا کہ) دو ریاستی حل کس قدر ضروری ہو جاتا ہے، جس پر دونوں رہنما آج بھی یقین رکھتے ہیں۔‘

ویب سائٹ کے مطابق اس اجلاس میں امریکی، یورپی، روسی اور اعلیٰ جاپانی سرکاری اہلکار موجود تھے۔

جان کیری نے لفظ ’اپارٹیٹ‘ (apartheid) استعمال کیا۔ یہ اصطلاح 1948 سے 1994 تک جنوبی افریقہ میں قائم جابرانہ نسلی امتیاز پر مبنی پالیسی کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

امریکی صدر براک اوباما اور جان کیری اسرائیل اور فلسطینی کے درمیان تناظر میں بات کرتے ہوئے اس اصطلاح کے استعمال سے گریز کرتے رہے ہیں، لیکن سابق صدر جمی کارٹر نے 2006 میں شائع ہونے والی ایک کتاب ’فلسطین ، امن اور اپارٹیٹ‘ لکھی تھی، جس پر خاصی لے دے ہوئی تھی۔

کیری کا کہنا تھا کہ امن کے قیام کے لیے جاری کوششوں نے ابھی دم نہیں توڑا ہے۔

کیری نے کہا کہ ’امن کی کوشش کے دم توڑے جانے کی اطلاع کو ہمشہ غلط طور پر سمجھا گیا اور اب جبکہ ہم واضح طور پر تصادم اور تعطل کی طرف بڑھ رہے ہیں، میں یہی کہوں گا کہ یہ عمل ابھی مرا نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں