گھر لوٹنے کی اجازت نہیں دی گئی

پاک بھارت سرحد تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حکام نے مائی فاطمہ کو سرحد سے واپس بھیج دیا

ایک حاملہ پاکستانی خاتون کو، جو اپنے بیمار چچا سے ملنے انڈیا آئی تھیں، امیگریشن حکام نے گھر لوٹنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے کیونکہ انڈیا میں قیام کے دوران ہی ان کے بچے کی پیدائش ہوگئی تھی۔

مائی فاطمہ کی عمر تقریباً 35 سال ہے اور وہ دو مہینے پہلے اپنے شوہر کے ساتھ راجستھان کے شہر جیسلمیر میں اپنے بیمار چچا سے ملنے آئی تھیں۔ لیکن چچا کے انتقال کی وجہ سے وہ واپس نہیں جا سکیں اور 14 اپریل کو جیسلمیر کے ایک ہسپتال میں ان کے ہاں بچے کی پیدائش ہوئی۔

لیکن گذشتہ ہفتے جب وہ بچے کو لے کر منا بھاؤ کے راستے واپس جا رہی تھیں تو انھیں امیگریشن حکام نے واپس بھیج دیا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مائی فاطمہ نے کہا کہ ’حکام نے سرحد سے واپس بھیج دیا، ان کا کہنا تھا کہ پاسپورٹ میں بچے کا فوٹو ہونا لازمی ہے۔۔۔ دہلی سے پاسپورٹ میں فوٹو لگوا کر لائیں۔۔۔پیدائش کا سرٹیفیکیٹ کافی نہیں ہے۔‘

وہ اب اپنے پاسپورٹ میں بچے کا اندراج کرانے کے لیے دہلی میں پاکستان کے ہائی کمیشن سے رابطہ کریں گی۔

بچے کا نام سہیل خان رکھا گیا ہے۔ مائی فاطمہ کا تعلق پاکستان میں گھوٹکی سے ہے اور وہ اردو مشکل ہی سے بول پاتی ہیں۔

مائی فاطمہ کے ایک رشتے دار رصول خان کے مطابق وہ زچگی کے مکمل طبی ریکارڈ کے ساتھ ہائی کمیشن سے رابطہ کریں گے۔

جودھپور میں پاکستان سے آ کر بسنے والے ہندوؤں کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکن ہندو سنگھ سوڈھا نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان لوگوں کے پاس پوری سفری دستاویزات ہیں، اس لیے پاسپورٹ میں بچے کا نام شامل ہونے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے۔۔۔ لیکن ہم لوگ تو یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اس کا کوئی مقامی سطح پر حل نکالا جانا چاہیے تاکہ لوگوں کو دہلی جاکر پریشان نہ ہونا پڑے۔‘

بھارتی قوانین کے تحت ملک میں پیدا ہونےوالے بچوں کو صرف اسی صورت میں شہریت کا حق ملتا ہے جب والدین میں سے کم سے کم ایک بھارتی شہری ہو۔

اسی بارے میں