سندھ: شادی کی کم از کم عمر 18 برس مقرر

  • 28 اپريل 2014
Image copyright bb
Image caption کمسنی میں شادی کے قانون پر 89 برس بعد نظرِ ثانی کی گئی ہے

پاکستان کے صوبہ سندھ کی اسمبلی نے کم عمری میں شادی پر پابندی کا بل اتفاقِ رائے سے منظور کر لیا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈپٹی سپیکر شہلا رضا کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزیر روبینہ قائم خانی نے بچوں کی شادی پر پابندی کا بل پیش کیا جسے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔

تاہم بل کی منظوری کے وقت اپوزیشن کا کوئی رکن ایوان میں موجود نہیں تھا ۔

اس بل کے تحت شادی کے لیے کم سے کم عمر 18 برس ہوگی اور اس سے کم عمر بچوں کی شادی پر کمسن لڑکی سے شادی کرنے والے مرد اور لڑکی اور لڑکے کے والدین اور سرپرستوں کو قید اور جرمانے کی سزا میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

بل میں اس اقدام کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے اور اس کے مرتکب افراد کو تین برس تک قید اور 45 ہزار روپے تک جرمانے کی سزا ہو گی۔

سندھ اسمبلی میں اس بل کی روحِ رواں شرمیلا فاروقی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے اسے ایک ’تاریخی‘ قانون قرار دیا۔

Image caption شرمیلا فاروقی نے کمسنی میں شادی پر پابندی کے قانون کو تاریخی قانون قرار دیا

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل کم عمری کی شادی پر پابندی کا قانون 1929 میں سامنے بنایا گیا تھا جس کے تحت اس اقدام پر ایک ماہ قید اور ایک ہزار روپے جرمانہ ہو سکتا تھا۔

شرمیلا فاروقی نے کہا کہ 89 برس بعد اس قانون پر نظرِ ثانی کی گئی ہے اور 1929 کا ایکٹ منسوخ کر دیا گیا ہے اور اب یہ نیا قانون نافذ کیا گیا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا شادی کے لیے کم از کم عمر 18 برس مقرر کرنے سے قبل اسلامی نظریاتی کونسل سے مشاورت کی گئی، شرمیلا نے بتایا کہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں وکلا، مختلف مکاتبِ فکر کے افراد، سول سوسائٹی اور بچوں کی شادیوں پر کام کرنے والی این جی اوز سے رائے لینے کے بعد ایک خصوصی کمیٹی بنائی گئی جس نے اس بل پر غور کیا جس کے بعد یہ قانون بنایا گیا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق سندھ اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی میر نادر مگسی نے کہا کہ قانون تو بنائے جاتے ہیں مگر ان پر عملدرآمد اصل بات ہے اور سندھ اور بلوچستان میں اب بھی کمسنی میں شادیوں کے 80 فیصد واقعات رپورٹ نہیں ہوتے۔

اسی بارے میں