پاکستان میں صحافیوں کو ایجنسیوں، سیاسی جماعتوں اور طالبان سے خطرہ ہے: ایمنسٹی انٹرنیشنل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس رپورٹ میں اپنے صحافتی کام کی وجہ سے مارے جانے والے 34 صحافیوں کی روداد شامل کی ہے

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ پاکستان میں صحافی قتل کر دیے جانے سمیت مختلف نوعیت کے خطرات میں زندگی بسر کرتے ہیں اور یہ خطرہ انٹیلی جنس ایجنسیوں، سیاسی جماعتوں اور طالبان جیسے مسلح گروہوں سمیت ہر طرف سے ہے۔

’آپ کے لیے گولی منتخب کرلی گئی ہے، پاکستان میں صحافیوں پر حملے‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے پاکستانی حکام میڈیا کے کارکنوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور ان میں ملوث افراد کو سزا دلانے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس رپورٹ میں اپنے صحافتی کام کی وجہ سے مارے جانے والے 34 صحافیوں کی روداد شامل کی ہے۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ یہ سب کے سب صحافی 2008 میں ملک میں جمہوریت کی بحالی کے بعد ہلاک ہوئے اور ان میں سے صرف ایک کے قاتلوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکا۔

رپورٹ کے مطابق اگرچہ اس عرصے کے دوران 34 صحافتی کارکنوں کی اموات سب سے بے رحم حقیقت ہے مگر اسی عرصے میں کئی اور صحافیوں کو دھمکیاں ملیں، اغوا کیا گیا، تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعض قاتلانہ حملوں میں بال بال بچے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے ایشیا بحرالکاہل کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈیوڈ گریفتھس کہتے ہیں کہ پاکستان کی میڈیا برادری بڑی حد تک گھیرے میں ہے اور صحافیوں کو خاص طور پر اُن صحافیوں کو جو قومی سلامتی یا انسانی حقوق کے معاملات پر صحافت کرتے ہیں، ہر طرف سے نشانہ بنایا جاتا ہے اور یہ کام بڑے پریشان کن طریقے سے کیا جاتا ہے تاکہ ان کی آواز اور تحریر کو دبایا جاسکے۔

’مسلسل دھمکیوں نے صحافیوں کو ایک ناممکن صورتحال میں پہنچا دیا ہے جہاں حقیقت میں کوئی بھی حساس خبر انھیں کسی ایک یا دوسرے فریق کی طرف سے تشدد کے خطرے سے دوچار کر دیتی ہے۔‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل کہتی ہے کہ اس نے اس رپورٹ کی تیاری کے لیے 70 واقعات کی تفصیل سے تحقیقات کی ہیں اور 100 سے زیادہ صحافتی کارکنوں سے انٹرویو کیے ہیں۔ رپورٹ میں کئی ایسے واقعات کا جائزہ لیا گیا ہے جن میں صحافیوں کو اپنی رپورٹنگ کی وجہ سے مختلف کرداروں کے ہاتھوں نشانہ بننا پڑا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ متعدد صحافیوں نے ایمنسٹی کے ساتھ انٹرویوز میں یہ شکایت کی کہ انھیں ایسے افراد کی جانب سے ہراساں کیا گیا یا حملوں کا نشانہ بنایا گیا جو ان کے بقول خفیہ فوجی ایجنسی آئی ایس آئی سے تعلق رکھتے ہیں۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں ان میں سے بعض صحافیوں کی حفاظت کے پیش نظر ان کے نام بدل دیے گئے ہیں جبکہ بعض نے تو خطرے کی وجہ سے فرضی ناموں کے ساتھ بھی رپورٹ کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایس آئی کو کئی صحافیوں کے قتل، اغوا اور تشدد کے واقعات میں ملوث کیا گیا ہے مگر آج تک آئی ایس آئی کے کسی حاضر سروس اہلکار کو اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا جس کی وجہ سے ایجنسی کو قانون سے ماورا رہ کر موثر طور پر کام کرنے کی اجازت ملی۔

تنظیم کا دعویٰ ہے کہ آئی ایس آئی کی جانب سے صحافیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے واقعات میں طریقۂ واردات اکثر یکساں رہتا ہے جو کہ دھمکی آمیز فون کالز سے شروع ہوتا ہے اور پھر ان کے اغوا، عقوبت خانوں میں تشدد اور دوسری بدسلوکیوں اور بعض صورتوں میں ان کی ہلاکت پر ختم ہوتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پورے ملک میں صحافی غیر ریاستی گروہوں کی جانب سے بھی زیادتیوں کا نشانہ بنتے ہیں۔

’میڈیا پر زیادہ سے زیادہ جگہ پانے کی جارحانہ دوڑ میں طاقتور سیاسی کردار اپنی من پسند کوریج کے لیے صحافیوں پر سخت دباؤ ڈالتے ہیں۔ کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ، اہل سنت والجماعت اور دوسری تنظیموں کے حامیوں پر ان صحافیوں کو ہراساں اور قتل کرنے کا الزام لگتا رہا ہے جو انھیں نہیں بھاتے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک کے شورش زدہ شمال مغربی علاقوں اور جنوبی صوبے بلوچستان میں طالبان، لشکر جھنگوی اور نسل پرست بلوچ مسلح گروہ صحافیوں کو کھلے عام موت کی دھمکیاں دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنی زیادتیوں کو رپورٹ کرنے اور اپنے نظریات کو فروغ نہ دینے پر ان سے ناراض ہوتے ہیں۔

ایمنٹسی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھی صحافیوں کو طالبان اور لشکر جھنگوی سے وابستہ گروہوں سے دھمکیاں ملتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافتی کارکنوں پر تشدد اور حملوں کے باوجود پاکستانی حکام ان میں ملوث افراد کو سزا دلانے میں بڑی حد تک ناکام رہے ہیں۔ جن واقعات کے بارے میں ایمنسٹی نے خود تحقیق کی ہے، ان میں سے زیادہ تر کیسوں میں سرکاری حکام نے شاید ہی ٹھیک طرح سے تحقیقات کی ہو اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں پہنچایا ہو۔

رپورٹ کے مطابق صحافیوں پر تشدد کے چند ایک اہم واقعات میں کسی حد تک جامع تحقیقات کی گئیں اور وہ بھی عوام کے غم و غصے کے بعد حکام نے ایسا کیا۔

ایمنسٹی کا کہنا ہے کہ حکومت نے صحافیوں کے لیے خطرناک حالات کو بہتر بنانے کا وعدہ کیا ہے اور اس سلسلے میں صحافیوں پر حملوں کی تحقیقات کے لیے پبلک پراسیکیوٹر بھی مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے لیکن اس ضمن میں بہت کم ٹھوس اقدامات کیے گئے ہیں۔

رپورٹ میں پاکستان پر زور دیا گیا ہے کہ صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں ایک اہم قدم فوجی اور خفیہ ایجنسیوں کے بارے میں تحقیقات کرنا اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا تاکہ صحافیوں کے خلاف انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔

رپورٹ میں میڈیا کے اداروں سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنے عملے کو لازماً مناسب تربیت، مدد اور تعاون فراہم کریں کیونکہ یہ صحافیوں کو تشدد سے بچانے کا ایک اہم عملی قدم ہوگا۔

ایمنسٹی کہتی ہے کہ ان ہنگامی اقدامات کے بغیر پاکستانی میڈیا کو ڈرا دھمکا کے خاموش کیا جا سکتا ہے۔ ’پاکستان میں خوف کے ماحول نے پہلے ہی آزادیِ اظہار اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا پردہ چاک کرنے کی جدوجہد پر منفی اثر ڈالا ہے۔‘

اسی بارے میں