زاہد بلوچ کی گمشدگی پر ایچ آر سی پی کی تشویش

Image caption کراچی پریس کلب کے باہر زاہد بلوچ کی بازیابی کے لیے بی ایس او آزاد کے مرکزی رہنما لطیف جوہر کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال نویں روز میں داخل ہوگئی ہے

پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن، آزاد کے چیئرمین زاہد بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے اور ان کی بحفاظت رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔

ایچ آر ایس سی پی کا کہنا ہے کہ زاہد بلوچ کو 18 مارچ کو کوئٹہ سے سادہ کپڑوں میں ملبوس سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکاروں نے اغوا کیا تھا۔

تنظیم کے مطابق سب سے زیادہ پریشان کن بات زاہد کی غیر تسلیم شدہ حراست ہے جسے اب کافی عرصہ ہو چکا ہے۔

ایچ آر ایس سی پی کا کہنا ہے کہ وہ زاہد کی زندگی کو لاحق خطرے اور حراست کے دوران ان کی خیر وعافیت کے بارے میں سخت فکرمند ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ان کی حراست کا فوری طور پر اعتراف کیا جائے اور ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔

ہیومن رائٹس کمیشن نے اعلامیے میں مزید کہا ہے کہ ’ہم ایک عرصے سے اس بات کی تلقین کرتے رہے ہیں کہ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کسی بھی ملزم پر عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور اسے جبری گمشدہ نہ کیا جائے۔‘

ایچ آر ایس سی پی کے مطابق جبری گمشدگیوں کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف فوری طور پر قانونی کارروائی کی جائے۔

دوسری جانب کراچی پریس کلب کے باہر زاہد بلوچ کی بازیابی کے لیے بی ایس او آزاد کے مرکزی رہنما لطیف جوہر کی تادمِ مرگ بھوک ہڑتال نویں روز میں داخل ہوگئی ہے۔

لطیف جوہر نے 22 اپریل کی شام سے بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا، گزشتہ روز کمزوری کی وجہ سے لطیف جوہر کی حالت غیر ہوگئی اور ہنگامی طور پر ڈاکٹر طلب کیا گیا جس نے انہیں گلوکوز کی ڈرپ لگانے پر راضی کیا۔

بھوک ہڑتالی کیمپ پر موجود بی ایس او آزاد کی قائم مقام چیئرپرسن کریمہ بلوچ نے ایک بار پھر انسانی حقو ق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ زاہد بلوچ کی بازیابی کے لیے اپنا کردار ادا کریں جب تک انہیں بازیاب نہیں کیا جاتا ان کا پر امن احتجاج جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ پریس کلب کے باہر یہ کیمپ 24 گھنٹے آباد رہتا ہے، بھوک ہڑتالی لطیف جوہر کے ساتھ یکجہتی کے لیے کریمہ بلوچ اور دیگر خواتین کارکن دن رات موجود رہتی ہیں۔

دوسری جانب بی ایس او آزاد کی جانب سے تربت، آواران، مشکے سمیت کئی علاقوں میں زاہد بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیےگئے ہیں۔

اسی بارے میں