’پاکستان میں شیعہ اور دیگر اقلیتیں شدت پسندوں کے نشانے پر‘

Image caption سنہ 2014 کی رپورٹ میں اس تنظیم نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر رکھا ہے جہاں اقلیتوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جاتا ہے

اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی برطانوی تنظیم مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا ہے کہ صومالیہ اور سوڈان ان ممالک کی فہرست میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں جہاں اقلیتوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے یا ان کو بڑے پیمانے پر قتل کیا جا رہا ہے۔

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نامی تنظیم ہر سال ’پیپلز انڈر تھریٹ‘ رپورٹ شائع کرتی ہے جس میں ان ممالک کا ذکر کیا جاتا ہے اور درجہ بندی کی جاتی ہے جہاں پر اقلیتوں کا یا تو بڑے پیمانے پر قتل کیا جا رہا ہو یا پھر نسل کشی۔

سنہ 2014 کی رپورٹ میں اس تنظیم نے پاکستان کو ان ممالک کی فہرست میں ساتویں نمبر پر رکھا ہے جہاں اقلیتوں کو سب سے زیادہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فرقہ وارانہ اور مذہبی قتل و غارت میں اضافہ ہوا ہے۔

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل نے 2014 کی رپورٹ میں کہا ہے ’بین الاقوامی میڈیا کی زیادہ توجہ اسلامی شدت پسندوں کے ساتھ حکومتی تصادم کی جانب ہے۔ اور اس وجہ سے پاکستان میں مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو لاحق خطرات پر سے توجہ ہٹ گئی ہے۔‘

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے ’طالبان اور دیگر شدت پسند گروہوں کی پاکستان میں اہلِ تشیع اور بالخصوص ہزارہ برادری کے خلاف پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے علاوہ احمدیوں اور عیسائیوں کے خلاف بھی پرتشدد کارروائیاں جاری ہیں۔‘

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر مارک لیٹیمر نے رپورٹ میں کہا ہے کہ ’پاکستان اور برما میں لسانی اور فرقہ وارانہ تشدد بڑا مسئلہ ہے اور ان دو ممالک میں حکومتیں اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام رہی ہیں۔‘

مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق سنہ 2013 میں اقلیتوں کو نشانہ بنائے جانے والے ممالک کی فہرست میں پاکستان پانچویں نمبر پر تھا جبکہ 2012 میں پاکستان چھٹے نمبر پر تھا۔

شورش زدہ افغانستان بھی مسلسل کئی سال سے اس فہرست میں پہلے دس ممالک میں شامل رہا ہے۔ سنہ 2014 میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران طالبان شدت پسندوں نے اپنے حملوں میں انتہائی اضافہ کر دیا تھا۔

جیسا کہ افغانستان کو ممکنہ طور انتشار کا سامنا ہے، پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ کے درمیان نسلی کشیدگی کا خدشہ موجود ہے۔

رپورٹ کے مطابق برما نے جو حال میں پانچ دہائیوں تک فوج کی حکمرانی میں رہنے کے بعد جمہوریت کی طرف آیا ہے، نسلی اقلیتوں کے ساتھ سلوک کے حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں کی لیکن گذشتہ سال کے مقابلے وہ اس فہرست میں ساتویں نمبر سے آٹھویں پر آ گیا ہے۔

برما کی حکومت نے مسلح نسلی باغیوں کے ساتھ مذاکرات کے عمل کے بڑھایا لیکن ملک کے شمالی ریاستوں کچین اور شان میں تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہیں۔

دریں اثنا برما میں مسلم اقلیت بالخصوص روہنجیا مسلمانوں کے خلاف نسلی امتیاز اور نفرت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ گذشتہ سال بدھ بھکشوؤں کی طرف سے روہنجیا مسلمانوں کے خلاف نفرت سے بھرپور اظہار رائے کی وجہ سے ان کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ مائنورٹی رائٹس گروپ انٹرنیشنل سنہ 2005 سے ’پیپلز انڈر تھریٹ‘ کے نام سے سالانہ رپورٹ شائع کر رہی ہے۔

اسی بارے میں