’غداری کے مقدمے میں شہادتیں جلد ریکارڈ کی جائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پرویز مشرف علاج اور فیملی مصروفیات کی وجہ سے ان دنوں کراچی میں ہیں

پاکستان کے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کے چیف پراسیکیوٹر اکرم شیخ نے خصوصی عدالت میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اس مقدمے میں شہادتیں جلد ریکارڈ کرنے کے لیے تاریخ مقرر کی جائے۔

اس درخواست میں غداری کے مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ ملزم پرویز مشرف کے خلاف اس مقدمے کو شروع ہوئے چار ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے جب کہ ملزمان کے وکلا کی طرف سے 21 درخواستیں متعلقہ عدالت میں دائر کی گئیں جو مقدمے کی عدالتی کارروائی کو طوالت دینے کے مترادف ہے۔

چیف پراسیکیوٹر نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ اس مقدمے میں ملزم پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد ہو چکی ہے اور انھوں نے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔

اکرم شیخ نے کہا کہ سپیشل کریمینل ایکٹ سنہ 1976 کے تحت اگر کوئی ملزم صحتِ جرم سے انکار کرے تو اس کے فوری بعد استغاثہ کی جانب سے شہادتیں قلمبند کروانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، تاہم اس مقدمے میں ابھی تک ایسا نہیں ہوا۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ سرکاری گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے میں تاخیر انصاف کے تقاضوں کو پوری نہیں کرتی۔

ذرائع کے مطابق پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے میں 15 سے زائد سرکاری گواہان کے بیانات قلمبند کیے جائیں گے۔

سابق فوجی صدر کے وکلا کی جانب سے اس مقدمے میں اب تک ہونے والی تفتیش کی نقول فراہم کرنے سے متعلق دائر کی گئی درخواست پر خصوصی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر رکھا ہے جس کا فیصلہ آٹھ مئی کو سنائے جانے کا امکان ہے۔

پرویز مشرف علاج اور فیملی مصروفیات کی وجہ سے ان دنوں کراچی میں ہیں۔

اسی بارے میں