سیاسی مصلحتوں کی قیمت کیا ہے؟

جھنگ میں ایک بینر تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ہیر اور رانجھا جیسے عاشقوں کے شہر پر نفرت حاوی لگتی ہے

پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ضلع جھنگ کئی دہائیوں سے فرقہ وارانہ کشیدگی کے لیے جانا جاتا ہے اور اس کشیدگی کی نشانیاں صرف جھنگ شہر تک ہی محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات اس کی تحصیلوں میں بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

تحصیل اٹھارہ ہزاری جھنگ سے 35 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں کے مکانات کی دیواروں پر کالعدم تنظیموں کے ناموں کی وال چاکنگ جابجا دکھائی دیتی ہے۔

ان میں سے ایک مکان سید منصور علی شاہ کا ہے لیکن 25 سالہ منصور اب یہاں نہیں رہتے۔ ان کے والدین کا کہنا ہے کہ وہ تین سال پہلے افغانستان مزدوری کی تلاش میں گئے تھے اور اب ہلمند کی ایک جیل میں قید ہیں۔

منصور کے والد سید انور علی شاہ کی کچھ زمین اور بجلی کا کاروبار ہے، چودہ بچے ہیں اور گھر کا خرچ پورا کرنا مشکل ہے۔

مقامی لوگ کہتے ہیں کہ منصور جہاد کرنے افغانستان گئے تھے، جس کی انور تردید کرتے ہیں۔ ’وہ جہاد کے بڑا خلاف تھا۔ کہتا تھا کہ جہادی لوگ وہاں لے جا کر لوگوں کو پھنسا دیتے ہیں۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ کچھ فوجی بھی اس بارے میں ان سے پوچھ گچھ کرنے آئے تھے۔

نام نہ لینے کی شرط پر ایک مقامی صحافی نے بتایا کہ منصور افغانستان بذریعہ کراچی جانے سے پہلے کالعدم تنظیم اہلِ سنت والجماعت کے یوتھ ونگ کے رہنما رہ چکے ہیں۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ منصور اس تنظیم کے لڑکوں کے ساتھ بیٹھ کر گمراہ ہوئے۔

لیکن جھنگ سے افغانستان کا سفر منصور نے کیوں کیا؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنا ہو تو علاقے کے سماجی و معاشی حالات اور سیاست پر نظر ڈالنا لازم ہے۔

ہیر اور رانجھا جیسے عاشقوں کے شہر پر نفرت حاوی لگتی ہے اور ضلعے میں فرقے کی بنیاد پر تفریق اور تقسیم واضح نظر آتی ہے۔

ایک طرف شہر کے مرکز میں کالعدم سنی تنظیم اہلِ سنت والجماعت کے جھنڈوں کی کثرت ہے تو دوسری بعض علاقوں میں اہلِ تشیع کی تنظیموں کے علم لہراتے ہیں۔

1980 اور 1990 کی دہائیوں میں جھنگ میں فرقہ وارانہ تشدد عروج پر تھا جس کی ابتدا اہلِ تشیع سے تعلق رکھنے والے جاگیرداروں کے خلاف مڈل کلاس سنی تنظیموں کے اٹھ کھڑے ہونے سے ہوا اور پھر ان کے مقابلے میں شیعہ تنظیمیں سامنے آئیں۔

شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والی سیاسی و مذہبی تنظیم مجلس وحدتِ مسلمین جھنگ کے صدر مولانا سید اظہر عباس کاظمی کا خیال ہے کہ ان تنظیموں کے پیچھے ’اور‘ ہاتھ تھا۔

’زمین داروں کی فطرت ایک جیسی ہوتی ہے اور مظلوم اور محروم مشکلات کا شکار رہتے ہیں لیکن وجہ محض یہ نہیں ہے۔ اہلِ سنت والجماعت کے پیچھے اور بھی عناصر ہیں۔‘

کہا جاتا ہے کہ اہلِ سنت والجماعت میں وہی لوگ سرگرم ہیں جو پہلے کالعدم تنظیم سپاہِ صحابہ پاکستان، میں تھے۔

مولانا اظہر کاظمی ضلع جھنگ کو سنی تنظیموں کی تجربہ گاہ قرار دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption شہر میں ایک دیوار پر الجہاد بھی لکھا ہے۔

’اس ضلع میں 35 سے 40 فیصد ہم ہیں۔ انہوں نے ضلع کو اس لیے چنا کہ شیعہ زیادہ ہیں۔ زمین دار طبقے کی اکثریت شیعہ ہے، اہلِ تشیع مضبوط ہیں۔ اسی سے بات آگے بڑھی، اپنے طور پر وہ کامیاب ہیں۔ لیکن ہم نہ ڈرتے ہیں اور نہ ہی اسے کامیابی مانتے ہیں۔‘

سرکاری اعداد و شمار اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق، پاکستان میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن مولانا عباس کاظمی کہتے ہیں کہ معاملہ فرقے سے آگے بڑھ گیا ہے: ’لشکرِ جھنگوی پنجابی طالبان ہیں۔ ان کا سیاسی ونگ اہلِ سنت و الجماعت ہے۔ تحفظ کے لیے سیاست کا لبادہ اور کام وہی۔‘

اگرچہ شیعہ تنظیموں کے مرکز شہر سے دور واقع ہیں اور شہر کے مرکزی علاقے میں اہلِ سنت والجماعت کا کنٹرول لگتا ہے تاہم، جماعت کے سربراہ مولانا محمد احمد لدھیانوی شدت پسندی اور لشکرِ جھنگوی کے وجود سے انکار کرتے ہیں۔

جب میں نے ان سے پوچھا کہ حکومتِ پنجاب نے تو دعویٰ کیا ہے کہ انھوں نے لشکرِ جھنگوی کے ان کارکنوں کو پکڑا ہے جو پنجاب میں صحافی رضا رومی پر حملے سمیت ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے نہیں پتہ۔ یہ لشکرِ جھنگوی والوں سے پوچھیں، میں تو سپاہِ صحابہ ہوں۔‘

جھنگ میں بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ گذتشہ برسوں میں یہاں تشدد کے واقعات میں کمی کی وجہ مولانا محمد احمد لدھیانوی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption مولانا احمد لدھیانوی جھنگ کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 89 کے دعویدار ہیں

ایک مقامی صحافی نے مجھے بتایا کہ ’مولانا صاحب ٹھنڈے مزاج کے ہیں۔ ان کی جماعت کے گرم جوش نوجوان رکن ان پر الزام لگاتے ہیں کہ قومی اسمبلی تک نہ پہنچنا ان کی کمزوری کی علامت ہے۔‘

مولانا احمد لدھیانوی جھنگ کی قومی اسمبلی کی نشست این اے 89 کے دعویدار ہیں۔ گذشتہ ماہ، الیکشن کمشن نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ تسلیم کر کے اعلان کیا تھا کہ اس نشست پر اہلِ سنت والجماعت کے سربراہ جیت گئے ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر پاکستان مسلم لیگ نون کے امید وار شیخ محمد اکرم کو بحال کر دیا۔

میں نے مولانا احمد لدھیانوی سے پوچھا کہ وہ قومی اسمبلی میں کیوں جانا چاہتے ہیں؟ تو ان کا جواب تھا۔ ’یہ قانون ساز ادارہ ہے۔ یہاں ملک کے فیصلے ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اچھے لوگ آنے چاہیں۔ وہاں پہنچ کر میری اول ترجیح ملک میں نظامِ شریعت کا نفاذ ہوگا۔‘

خیال رہے کہ اہلسنت والجماعت کے سربراہ مولانا اعظم طارق جھنگ کے حلقے سے 2002 کے انتخابات میں جیتے تھے۔ 2003 میں اسلام آباد میں ان کا قتل ہو گیا تھا۔

تین بار حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے والی اس تنظیم کے حالیہ سربراہ قومی اسمبلی تک پہنچنے میں ابھی تک کامیاب تو نہیں ہوئے لیکن سیاسی جماعتوں نے تنظیم کی پہنچ سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے فائدہ ضرور اٹھایا ہے۔

احمد لدھیانوی کا کہنا ہے کہ ’2013 کے انتخابات میں بھی پاکستان مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں کے ساتھ تعاون کیا گیا تھا۔ ملک کوئی حلقہ ایسا نہیں جہاں ہمارا ووٹ نہ ہو۔ ہمارا ووٹ ہر حلقے میں کم سے کم آٹھ دس ہزار تو ہے۔ ہر حلقے میں ہم کسی کو جتانے یا ہرانے کی پوزیشن میں ہوتے ہیں۔‘

گذشتہ دہائی میں اہلِ سنت والجماعت نے ملک بھر میں اپنے آپ کو مضبوط کیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ مرکزی دھارے میں شامل جماعتوں کو قیمتی ووٹ دلا سکتی ہے لیکن ایسی سیاسی مصالحت کی قیمت کیا ہوتی ہے؟

اسی بارے میں