’افغانستان، بھارت میں حملوں میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی نہیں ہو رہی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ کے مطابق پاکستان میں موجود شدت پسندوں کی پناہ گاہوں کی جانب سے افغانستان میں حملے کیے جا رہے ہیں

امریکی محکمۂ دفاع کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جنگجوؤں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں انتہا پسند حملوں کا سبب بن رہی ہیں جو ایک سنگین مسئلہ ہے۔

امریکی محکمۂ دفاع کی جانب سے افغانستان کے مستحکم مستقبل اور سکیورٹی سے متعلق شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین سے افغانستان پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقے فاٹا اور صوبہ بلوچستان میں شدت پسندوں کی محفوظ گاہیں ہیں جہاں سے افغانستان میں حملے کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان اور بھارت میں حملے کرنے والے ان انتہا پسندوں کے خلاف مناسب اقدامات نہیں کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان بظاہر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے حوالے سے مثبت کردار ادا کرے گا۔

امریکی محکمۂ دفاع کی رپورٹ کے مطابق حکومتِ پاکستان نے قبائلی علاقے فاٹا میں کالعدم تحریکِ طالبان اور خیبر پختونخوا میں دیگر پاکستان مخالف گروہوں کے خلاف محدود اہداف حاصل کیے ہیں جس کے نتیجے میں اب حکومتِ پاکستان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے کے مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ تعلقات میں گرم جوشی چاہتا ہے جس کے لیے افغان صدر حامد کرزئی اور وزیرِ اعظم پاکستان نواز شریف کے درمیان براہِ راست ملاقات ہوئی۔ مگر کابل اور اسلام آباد کے درمیان شکوک و شبہات کی فضا برقرار ہے اور پاکستان بھارت اور افغانستان میں حملے کرنے والے انتہا پسندوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کر رہا۔

امریکہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے کسی حد تک دیسی ساختہ دھماکہ خیر مواد کی پیداوار کو روکنے کے لیے چند اقدامات کیے ہیں مگر اس سلسلے میں بڑی پیش رفت نہیں ہوئی اور اس طرح کا مواد اب بھی پاکستان سے باہر جا رہا ہے۔

پاک افغان سرحدوں پر ہونے والی جھڑپیں اور دونوں مملک کے درمیان اعتماد کی کمی کی وجہ سے دونوں کے تعلقات اب بھی اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان افغانستان اور بھارت میں حملے کرنے والے ان انتہا پسندوں کے خلاف مناسب اقدامات نہیں کر رہا

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکہ باہمی مفادات کے تناظر میں ایک دوسرے کے درمیان بہتر تعلقات چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں پاکستان کی سربراہی میں پاک امریکہ تعلقات میں مبثت پیش رفت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

رپورٹ میں افغانستان سے متعلق کہا گیا ہے کہ افغان سکیورٹی افواج نے انتہاپسندوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کی ہیں جن کے نتیجے میں رواں برس پانچ اپریل کو صدارتی انتخابات ممکن ہو پائے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ افغان حکومت اپنے 34 صوبوں میں سکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال رکھی ہے جب کہ تشدد کے واقعات کم آبادی والے علاقوں میں ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 21 دسمبر سنہ 2014 میں بین الاقوامی افواج کے انخلا کے پیش نظر افغان نیشنل آرمی کو چار پہلوؤں پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس میں فوجی فضائی قوت، خفیہ معلومات جمع کرنے کا نظام، مخصوص فوجی کارروائیاں اورافغان سکیورٹی میں بہتری شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کے بعد افعان نیشنل سکیورٹی فورس کی دفاعی مدد، افغان صدر کی جانب سے افغانستان اور امریکہ کے درمیان باہمی سکورٹی معاہدے پر دستخط سے انکار اور سیاسی، معاشی اور سکیورٹی سے متعلق صورت حال نے افغان معاشرے میں بے یقینی کی کیفیت طاری کر رکھی ہے۔

اسی بارے میں