’فوج طالبان سے مذاکرات میں رکاوٹ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صورتِ حال ایسی چلتی رہی تو پھر مذاکرات کبھی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتے: چوہدری نثار

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ کھینچاتانی کے ماحول میں حکومت اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

اُنھوں نے کہا کہ فوج کی جانب سے ان مذاکرات کے حوالے سے نہ پہلے کوئی رکاوٹ تھی اور نہ ہی اب ہے۔

جمعے کو نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی یعنی نادرا کے دفتر میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے درمیان جو آخری ملاقات ہوئی تھی اس میں واضح طور پر کہا گیا تھا کہ حکومت اور طالبان کے درمیان جو اگلی ملاقات ہوگی وہ حتمی ہوگی اور اس ملاقات میں دونوں جانب سے ایجنڈا سامنے آنا چاہیے۔

وزیرِ داخلہ نے طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے کسی بھی رکن کا نام لیے بغیر کہا کہ اس کے ارکان حکومتی کمیٹی سے ملاقات کے دوران کچھ باتیں طے کر کے جاتے ہیں اور باہر جا کر میڈیا میں کچھ اور بیان دے دیتے ہیں، جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ جیسے وہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صورتِ حال ایسی ہی چلتی رہی تو پھر مذاکرات کبھی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتے۔

چوہدری نثار علی خان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ غیر عسکری طالبان کی رہائی سے متعلق فوجی قیادت نالاں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ افراد عسکری اداروں کی تحویل میں تھے جنھیں وہاں سے رہا کروایا گیا تو پھر عسکری قیادت اس پر کیسے ناراض ہو سکتی ہے؟۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات کبھی بھی ناخوشگوار نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ چوہدری نثار علی خان نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ حکومت اور فوج کے دومیان ’کچھ نہ کچھ ہے‘ جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تناؤ موجود ہے۔

وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع نہیں کیے اور آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کے نتیجے میں موجودہ حکومت نے طالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کیے ہیں، لہٰذا دیگر سیاسی جماعتوں ان مذاکرات کو کامیاب ہونے دیں۔

واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان رابطہ کمیٹی کے ممبران نے کہا تھا کہ جب تک طالبان اور فوج کے درمیان براہِ راست بات چیت نہیں ہوتی اس وقت تک یہ عمل بامقصد نتیجے کی جانب نہیں بڑھ سکتا۔

جمعرات کو پشاور میں جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام قبائل امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے طالبان رابطہ کار کمیٹی کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولاناسمیع الحق نے کہا تھا کہ غاروں میں بیٹھے ہوئے طالبان سے ان کا رابطہ ہو جاتا ہے مگر اسلام آباد والوں سے رابطہ نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں