ایم کیو ایم کا ’یومِ سوگ‘، کراچی میں نظامِ زندگی معطل

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوم سوگ کے باعث شہر کے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بند ہیں اور کراچی تعلیمی بورڈ اور جامعات نے پرچے بھی ملتوی کر دیے ہیں

کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی اپیل پر جمعے کو یوم سوگ منایا جارہا ہے اور تمام بازار، مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند ہیں جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ معطل ہے۔

ادھر سندھ اسمبلی میں متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے کارکنوں کی مبینہ ماورائے عدالت ہلاکتوں پر احتجاج کیا ہے اور اراکین بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شریک ہوئے ہیں۔

میمن گوٹھ تھانے کی حدود سے ملنے والی چار نوجوانوں کی بطور کارکن شناخت کے بعد ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی نے جمعرات کو اس یوم سوگ کا اعلان کیا تھا اور رابطہ کمیٹی کے رہنما مقبول صدیقی نے ٹرانسپورٹروں اور تاجروں سے کاروبار بند رکھنے کی اپیل کی تھی۔

کارکنوں کے’ماورائے عدالت قتل‘ پر ایم کیو ایم کا احتجاج

سوگ کے اعلان کے بعد جمعرات کی شام ہی کو سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ محدود ہوگئی جبکہ تمام سی این جی اسٹیشن اور پیٹرول پمپ بند کر دیے گئے، جس کی وجہ سے ملازمتوں سے گھروں کو لوٹنے والوں کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

جمعے کو بھی شہر کے تمام نجی اور سرکاری تعلیمی ادارے بند ہیں اور کراچی تعلیمی بورڈ اور جامعات نے اپنے پرچے بھی ملتوی کر دیے ہیں۔

سندھ اسمبلی کے اجلاس میں بھی ایم کیو ایم نے ان ہلاکتوں پر احتجاج کیا ہے اور اجلاس کے دوران صوبائی وزیر رؤف صدیقی کا کہنا تھا کہ کارکنوں کے بے رحمانہ قتل سے انھیں شدید تکلیف پہنچی ہے۔

رکن اسمبلی خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ چاروں کارکنوں کی گمشدگی کے بارے میں فیصل سبزواری نے اسمبلی کو آگاہ کیا تھا اور حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ ان کا پتہ لگایا جائے گا، اگر وہ بے قصور ہیں تو انھیں رہا کر دیا جائے گا ورنہ عدالتوں میں پیش کیا جائے گا۔

خواجہ اظہار الحسن کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی اور قومی اسمبلی معزز ایوان ہیں، اور ان کی جماعت نے دونوں میں اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق کراچی آپریشن کی حمایت کر کے انھوں نے بڑی غلطی کی ہے۔

سندھ کے صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے ایوان کو بتایا کہ ایم کیو ایم کے اراکین نے لاپتہ کارکنوں کی فہرست انھیں دی تھی جو انھوں نے آئی جی سندھ پولیس کے حوالے کر دی تھی، جبکہ رینجرز سے بھی معلوم کیا گیا تھا لیکن صوبائی حکومت کے ماتحت کسی بھی ادارے نے ان کی اپنے پاس موجودگی کو مسترد کر دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کارروائی سے انکار کرتے ہیں تو وہ کون لوگ ہیں جو سفید ڈبل کیبن میں آئے اور نوجوانوں کو اٹھا کر لے گئے، اس حوالے سے تحقیقات میں ایم کیو ایم ان کی مدد کرے، اور اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو پیش کیے جائیں۔

شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کو تجویز پیش کی کہ جن پر انھیں شک و شبہات ہیں ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور حکومت ان کی اس حوالے سے ہر مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔ ساتھ میں انھوں نے اراکین اسمبلی پر مشتمل کمیٹی بنانے کا بھی مشورہ دیا جو آئی جی سندھ اور ڈی جی رینجرز سے ملاقات کرے اور حقائق اور خدشات سے آگاہ کرے۔

اسی بارے میں