میر شکیل الرحمٰن اور عامر میر کے خلاف مقدمے کا حکم معطل

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وکیل فیصل اقبال کا کہنا تھا کہ جنگ گروپ نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر براہ راست الزام عائد نہیں کیا تھا بلکہ یہ الزام حامد میر کے بھائی عامر میر نے عائد کیا تھا

اسلام آباد ہائی کورٹ نے جنگ میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمٰن اور صحافی عامر میر کے خلاف اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج کی جانب مقدمہ درج کرنے سے متعلق جاری کردہ حکم معطل کر دیا ہے۔

اسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج محمد جہانگیر اعوان نے سنیچر کو ایک شہری ارشد بٹ کی درخواست پر میر شکیل الرحمٰن اور عامر میر کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا تھا، تاہم پولیس نے مقدمے کے اندارج کے لیے یہ معاملہ لیگل برانچ کو بھجوا دیا تھا۔

جنگ گروپ کی طرف سے اسلام آباد کی مقامی عدالت کے فیصلے کو پیر کے روز اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس ریاض احمد خان نے اس درخواست کی سماعت کی۔

درخواست گُزار کے وکیل فیصل اقبال کا کہنا تھا کہ ’مقامی عدالت نے مدعی محمد ارشد بٹ کی درخواست پر اُن کے موکل کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے دیا جبکہ مذکورہ شخص نہ تو متاثرہ فریق ہے اور نہ ہی اُنھوں نے اس سے پہلے پولیس سے رابطہ کیا تھا۔‘

اُنھوں نے کہا کہ صحافی حامد میر پر حملے کے بعد جنگ گروپ نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر براہ راست الزام عائد نہیں کیا تھا بلکہ یہ الزام حامد میر کے بھائی عامر میر نے عائد کیا تھا۔

فیصل اقبال کا کہنا تھا کہ اس واقعے پر حکومت متاثرہ فریق ہے جس نے اس کے خلاف پیمرا میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس میں جیو کا لائسنس منسوخ کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ حامد میر پر ہونے والے حملے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے تین ججوں پر مشتمل ایک کمیشن کام کر رہا ہے جس نے ابھی تک اپنی حمتی رپورٹ حکومت کو پیش نہیں کی۔

اُنھوں نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بھی نجی ٹی وی چینل جیو کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے متعلق درخواست پہلے ہی مسترد کر چکی ہے۔

درخواست گُزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب تک یہ چیزیں واضح نہیں ہوں گی اُس وقت تک مقامی عدالت مقدمہ درج کرنے کے احکامات جاری نہیں کر سکتی۔

فیصل اقبال نے ایڈیشنل سیشن جج کی طرف سے مقدمہ درج کرنے کے حکم کو کالعدم قرار دینے سے متعلق بھی درخواست دائر کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔

اُدھر وفاقی حکومت کی طرف سے مذکورہ نجی ٹی وی چینل کا لائسنس منسوخ کرنے سے متعلق دائر کی گئی درخواست کی سماعت چھ مئی کو پیمرا میں ہوگی۔ پیمرا حکام نے جیو کی انتظامیہ سے چھ مئی تک اس درخواست پر تحریری جواب طلب کیا تھا۔

اسی بارے میں