سوات:سات ہزار یتیموں کے لیے صرف ایک ادارہ

سوات تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’پرورش‘ کے تمام اخراجات مخیر حضرات کے تعاون سے پورے ہوتے ہیں۔

خیبر پختونخوا کے ملاکنڈ ڈویژن میں فوج اور شدت پسندوں کے مابین تین سال جاری تک رہنے والی لڑائی میں جہاں مبینہ طور پر ہزاروں افراد ہلاک ہوئے وہیں ایک سروے کے مطابق لڑائی کے نتیجے میں لگ بھگ سات ہزار بچے یتیم اور بےسہارا ہوئے۔

پاکستان میں سرکاری سطح پر ان بچوں کی کفالت اور بہتر مستقبل کا کوئی ادارہ تو قائم نہیں کیا جا سکا، تاہم درد دل رکھنے والے لوگوں نے چار سال قبل ضلع سوات کے علاقے قمبر میں ’پرورش‘ کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا ہے جس میں کشیدہ حالات اور آپریشن کے دوران یتیم ہونے والے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

ابتدائی طور پر اس فلاحی ادارے میں پانچ سے دس سال تک کے 155 بچے زیرِ تعلیم رہے۔

اس فلاحی مرکز میں ایک بچے کا سالانہ خرچ 1200 ڈالر بتایا جاتا ہے جس میں دو سو ڈالر بچے کے میٹرک سے آگے کی تعلیم کے لیے فیوچر فنڈ کے نام سے جمع کیے جاتے ہیں۔

فیروز علی کی عمر دس سال ہے اور وہ وادی سوات کے ان ہزاروں بچوں میں سے ایک ہیں جن کے والدین دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں۔ وہ کلاس فور میں پڑھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس فلاحی مرکز نے انھیں اور ان جیسے دوسرے بچوں کو سہارا دیا ہے اور ان کی خواہش ہے کہ وہ بڑے ہو کر فوجی بنیں اور لوگوں کی حفاظت کریں۔

سکول کے ڈائریکٹر محمد نعیم نے بی بی سی کو بتایا کہ سوات میں جنگ کے دوران ہزاروں بچے اپنے والدین کے سائے سے محروم ہو گئے تھے اور متاثرین کی واپسی کے بعد ہونے والے سروے کے مطابق سوات میں یتیم ہونے والے ان بچوں کی تعداد سات ہزار کے قریب ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس خدشے کے پیش نظر کہ اگر ان بچوں کو سہارا نہ دیا گیا اور ان کی سرپرستی نہ کی گئی تو یہ ملک دشمن سرگرمیوں کا حصہ بن سکتے ہیں، ایک ایسے ادارے کے قیام کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی جہاں ان بچوں کی تعلیم و تربیت اس طرح کی جائے کہ کل یہ معاشرے پر بوجھ بننے کی بجائے معاشرے کا سہارا بنیں۔

انھوں نے بتایا کہ اسی لیے اس ادارے قیام عمل میں آیا ہے اور ادارے کے تمام اخراجات مخیر حضرات کے تعاون سے پورے ہوتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اساتذہ کا کہنا ہے کہ ان بچوں کو پڑھانے میں انھیں خوشی محسوس ہوتی ہے

پرورش میں بچوں کی صبح نماز فجر سے شروع ہوتی ہے اور تعلیم اور کھانے پینے کا انتظام ایک ہی چھت کے نیچے کیا جاتا ہے۔

بچوں کو پڑھانے والے اساتذہ کا کہنا ہے کہ بچوں کو پڑھانے میں انھیں خوشی محسوس ہوتی ہے اور انھیں آج تک یہ محسوس نہیں ہوا کہ یہ بچے یتیم ہیں۔

سکول انتظامیہ کے مطابق بچوں کو روزانہ 20 روپے جیب خرچ بھی دیا جاتا ہے تا کہ وہ سکول میں قائم ٹک شاپ سے اپنی پسند کی چیزیں خرید سکیں اور تنگ دستی کے احساس کا شکار نہ ہوں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اس اہم مسئلے پر توجہ دے تا کہ ہزاروں کی تعداد میں یتیم ہونے والے ان بچوں کی بہتر کفالت اور تعلیم کا بندوبست کیا جائے تاکہ ان کا مستقبل محفوظ بنایا جا سکے۔

اسی بارے میں