’طالبان کے حملے مذاکرات کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘

Image caption یاد رہے کہ چند ہی روز قبل پروفیسر ابراہیم نے اس تاثر کو رد کیا کہ مذاکرات کے آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ ہے۔

حکومت سے امن مذاکرات کے لیے طالبان کی نمائندہ کمیٹی کے ارکان کے مطابق مذاکراتی عمل کی راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں اور طالبان کے حملے اس عمل کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔

جماعتِ اسلامی کے صوبائی رہنما اور مذاکراتی کمیٹی کے رکن پروفیسر محمد ابراہیم نے پیر کو سوات کے شہر مینگورہ میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان جاری مذاکرات میں بہت سی رکاوٹیں ہیں۔

پروفیسر ابراہیم کا کہنا تھا کہ امن قائم کرنے کے عمل میں تیزی لانے کے لیے دونوں جانب سے عدم اعتمادی ختم کرنے میں مشکلات آ رہی ہیں۔

’فوج طالبان سے مذاکرات میں رکاوٹ نہیں‘

اصل مذاکرات تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئے: پروفیسر ابراہیم

انھوں نے کہا کہ دونوں فریق سنجیدہ ہیں مگر باہمی اعتماد موجود نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ نہ فوجی آپریشن سے امن قائم ہو سکتا ہے اور نہ ہی خودکش حملوں سے شریعت نافذ ہو سکتی ہے۔

یاد رہے کہ حال ہی میں مذاکراتی کمیٹی کے رابطہ کار پروفیسر ابراہیم نے کہا تھا کہ اصل مذاکرات تو ابھی شروع ہی نہیں ہوئے اور ایسا اسی وقت ممکن ہے جب طالبان کی شوریٰ کی طرف سے تفصیلی مطالبات موصول ہو جائیں گے۔

بی بی سی اردو سروس سے انٹرویو میں پروفیسر ابراہیم نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے اس تاثر کو رد کیا کہ مذاکرات کے آگے بڑھنے میں کوئی رکاوٹ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری نثار علی خان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا تھا کہ غیر عسکری طالبان کی رہائی سے متعلق فوجی قیادت نالاں ہے

ادھر ریڈیو پاکستان کے مطابق مذاکراتی کمیٹی کے ایک اور رکن مولانا یوسف کا کہنا ہے کہ طالبان حملے امن مذاکرات کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ملتان میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا یوسف نے ’صبر‘ کے مظاہرے کے لیے کہا۔

انھوں نے مذاکرات کی مخالف سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر تنقید بھی کی۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے جمعے کو پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا تھا کہ کھینچاتانی کے ماحول میں حکومت اور کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے درمیان مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

اُنھوں نے کہا کہ فوج کی جانب سے ان مذاکرات کے حوالے سے نہ پہلے کوئی رکاوٹ تھی اور نہ ہی اب ہے۔

وزیرِ داخلہ نے طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے کسی بھی رکن کا نام لیے بغیر کہا کہ اس کے ارکان حکومتی کمیٹی سے ملاقات کے دوران کچھ باتیں طے کر کے جاتے ہیں اور باہر جا کر میڈیا میں کچھ اور بیان دے دیتے ہیں، جس سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ جیسے وہ سیاسی پوائنٹ سکورنگ کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ صورتِ حال ایسی ہی چلتی رہی تو پھر مذاکرات کبھی بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتے۔

چوہدری نثار علی خان نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ غیر عسکری طالبان کی رہائی سے متعلق فوجی قیادت نالاں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں وزیرِ داخلہ کا کہنا تھا کہ حکومت اور فوج کے درمیان تعلقات کبھی بھی ناخوشگوار نہیں ہوئے۔

خیال رہے کہ چوہدری نثار علی خان نے کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ حکومت اور فوج کے درمیان ’کچھ نہ کچھ ہے‘ جس کی وجہ سے دونوں کے درمیان تناؤ موجود ہے۔

واضح رہے کہ اس سے ایک روز قبل حکومت کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان رابطہ کمیٹی کے ممبران نے کہا تھا کہ جب تک طالبان اور فوج کے درمیان براہِ راست بات چیت نہیں ہوتی اس وقت تک یہ عمل بامقصد نتیجے کی جانب نہیں بڑھ سکتا۔

جمعرات کو پشاور میں جماعتِ اسلامی کے زیرِ اہتمام قبائل امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے طالبان رابطہ کار کمیٹی کے سربراہ اور جمعیت علمائے اسلام (س) کے سربراہ مولاناسمیع الحق نے کہا تھا کہ غاروں میں بیٹھے ہوئے طالبان سے ان کا رابطہ ہو جاتا ہے مگر اسلام آباد والوں سے رابطہ نہیں ہوتا۔

اسی بارے میں