کیا واقعی یہ پاجامہ ان کا اپنا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جیو کے سینیئر صحافی حامد میر پر قاتلانہ حملے اور اس سلسلے میں آئی ایس آئی پر لگائے گئے الزامات کے حوالے سے میڈیا میں بحث جاری ہے

پاکستان میں فرقہ واریت ہمیشہ سے رہی ہے۔ جنرل ضیاء سے پہلے بھی تھی اور شاید بعد بھی رہتی۔ لیکن اس نے عذاب کی شکل تب اختیار کی جب ریاست نے اسے اپنایا، ہوا دی اور اسے اپنے ریاستی تشخص کا بنیادی ستون تصور کیا۔

ریاستی تشخص میں اس تبدیلی کی وجہ سے اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ملک بھر میں کھلم کھلا فرقہ واریت کا پرچار ہوتا ہے۔ مختلف گروہ اس ظلم کو ہوا دینے والوں میں سرعام تعریفی اسناد بانٹتے ہیں اور ریاست کے ایک گورنر کا قاتل ہیرو قرار پاتا ہے۔

یونہی پاکستان میں بلوچوں کے حقوق کی بات کرنے والے بلوچستان سے باہر ہمیں ہمیشہ کم ہی ملے۔ لیکن بلوچ حق پرستوں کی جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کا سلسلہ صرف تب شروع ہوا جب ریاست نے ان کے حقوق کی آواز کو جبر سے کچلنے کا فیصلہ کیا۔

اس سے فرق نہیں پڑتا کہ ریاست کی اس پالیسی کے موجودہ خالق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اس وقت خود عدالتی انا پرستی اور فرقہ واریت کا شکار ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ریاست نے جس کے خلاف بھی ظلم کو اپنی شناخت بنایا، اسے وہ ظلم ہر حال میں بھگتنا پڑا۔

کسی کو یاد ہے کہ بھارتی وزیراعظم کے پاکستان آنے پر احتجاجی جلوس نکلا کرتے تھے، ملک کی فوجی قیادت انھیں واہگہ بارڈر پر خوش آمدید کہنے سے صاف انکار کر دیتی تھی اور ہندو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ایک مسجد گرائے جانے پر پاکستان میں درجنوں ایسے مندر گرا دیے جاتے تھے جن میں کبھی پوجا بھی نہیں ہوتی تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption الزامات لگتے ہی ملک بھر میں مختلف عناصر نے آئی ایس آئی کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنا شروع کر دیا

آج ہر طرف بھارت سے دوستی اور بھائی چارے کا چرچا ہے۔

یہ ریاستی طاقت کہلاتی ہے۔ ایک ایسی قوت جس سے انکار کرنا اگر موت کو دعوت دینا نہیں تو کم از کم شیروں کی کچھار میں نہتے کود پڑنے کے مترادف ضرور ہے۔

آج کل پاکستان کا سب سے بڑا میڈیا گروپ جیو بھی شیروں کی کچھار میں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کی وجہ سے ہی اس نہج پر پہنچا ہو۔ لیکن صحافت اور آزادی اظہار کے لیے انتہائی صدمے کی بات یہ ہے کہ ہمارے بہت سے دوست اور ساتھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ اس کشمکش میں اکیلا ہے۔

بہت سے ایسے بھی ہیں جو اسے اس گہرے غار میں اور آگے دھکیلنے میں مصروف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ وہ اس کچھار سے باہر رہتے ہوئے ایسا کر سکتے ہیں۔ صحافی ہونے کے باوجود انھیں یہ خبر ہی نہیں کہ جیسے ہی شیروں کے منھ کو خون لگ گیا، وہ کچھار میں ہی نہیں دبکے رہیں گے بلکہ باہر نکلیں گے اور پھر ان کے شر سے کوئی محفوظ نہ ہوگا۔

کسی کو اس کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ آج کل جیو کو نفرت کے جس طوفان کا سامنا ہے اور جو بھی اس کہ ساتھ ہو رہا ہے اس میں ریاستی اداروں کا ہاتھ نہیں۔

اشتہاری دنیا سے تعلق رکھنے والے میرے ایک قریبی دوست نے مجھے بتایا کہ حامد میر پر حملے سے پہلے کسی بھی بڑی کمپنی کی ہر بڑی اشتہاری مہم کا 50 سے 65 فیصد بجٹ صرف جیو کے لیے مختص ہوتا تھا۔ لیکن حامد میر کی جانب سے ان پر حملے کا الزام آئی ایس آئی پر لگنے کے بعد یہی کمپنیاں اپنا پانچ فیصد اشتہاری بجٹ بھی جیو کو دینے کو تیار نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ملک کے ایک سرکاری ادارے کی حمایت میں ایسے ریلیاں نکالی گئیں جیسے کسی سیاسی رہنما کے حامی سڑکوں پر آ گئے ہیں

کیبل آپریٹر اپنی سروس میں جیو کو روزانہ کی بنیاد پر ادھر ادھر گھما رہے ہیں۔ زیادہ تر صارفین کے لیے کیبل پر جیو پکڑنا اتنا ہی مشکل ہو گیا ہے جتنا نیم شب خوابی میں کانوں کے آس پاس بھنبھناتا ہوا مچھر۔

کوئی تو وجہ ہے کہ کیبل آپریٹروں کے ایک کرتا دھرتا کو صارفین کو صرف یہ سمجھانے کے لیے پریس کانفرنس کرنی پڑی کہ وہ یہ سب کچھ کسی کے کہنے پر نہیں کر رہے، بالکل ایسے ہی جیسے کسی نے اپنے دوست کو پاجامہ ادھار دیا اور پھر ان کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ جو پاجامہ انھوں نے پہنا ہے وہ ان کا اپنا ہے۔

کراچی میں ملیر سمیت میں ایسے کئی کنٹونمنٹس کو جانتا ہوں جہاں جنگ اور اس کے تمام جرائد کی ترسیل پر پابندی لگ چکی ہے۔

پھر ان جرنیلوں کی کیا کہیے جنھوں نے اپنے عہدے کی عزت اور حرمت سے قطع نظر اپنے جوانوں کے سامنے جیو کے خلاف بھڑکیلی تقریریں کیں، اسے بیرونی طاقتوں کا آلہ کار کہا اور اس پر پابندی کا مطالبہ کیا۔

کیا یہ سب کچھ خود بخود ہو رہا ہے؟ اور کیا جیو کے خلاف ہونے والی ان سب وارداتوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں؟

یہ وہ عمل ہے جس کی مدد سے جنرل ضیاء نے پاکستان پر فرقہ واریت تھوپی، جس کے سہارے جنرل مشرف نے ریاست کے ہاتھوں بلوچوں کا قتل عام کرایا اور جسے استعمال کر کے پاکستان کے سیکورٹی کے اداروں نے ہر رنگ و نسل کے جنگجو پالے۔

اب وہی عمل میڈیا کے خلاف حرکت میں لایا جا رہا ہے۔ جیو کے مخالفوں کو، اور خاص طور پر صحافتی برادری کے اندر اس کے دشمنوں کو، ذہن میں رکھنا چاہیے کہ اس عمل کے نتیجے میں جیو کی موت خود ان کی خود کشی ہو گی۔

اسی بارے میں