خیبر ایجنسی: متاثرین کی واپسی کا دوسرا مرحلہ

Image caption تیراہ کے متاثرہ افراد کی واپسی کا پہلا مرحلہ گذشتہ سال اکتوبر نومبر میں مکمل ہوا تھا

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں وادی تیراہ سے تقریباً ایک سال پہلے نقل مکانی کرنے والے متاثرین کی اپنے علاقوں کو واپسی کا سلسلہ بدھ سے شروع ہو رہا ہے۔

وفاق کے زیرِانتظام فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم اے کے حکام کے مطابق وادی تیراہ کے متاثرین کی واپسی کا یہ دوسرا سلسلہ ہے جس میں کوئی سات ہزار سے زیادہ خاندان اپنے علاقوں کو واپس جائیں گے۔

’نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ ہو گئی‘

یہ متاثرہ خاندان ان دنوں ضلع پشاور اور ضلع کوہاٹ میں اپنے طور پر اور کرم ایجنسی کے علاقے صدہ میں نیو درانی کیمپ میں رہائش پذیر ہیں۔

گذشتہ ماہ بھی کرم ایجنسی کے ان متاثرہ افراد کو واپس اپنے علاقوں کو بھیج دیا گیا تھا جو نیو درانی کیمپ میں مقیم تھے۔

گذشتہ سال مارچ میں خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کی وجہ سے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے۔ ان متاثرہ افراد میں بیشتر لوگ یا تو رشتہ داروں اور دوستوں کے ہاں مقیم ہوئے اور یا انھوں نے اپنے طور پر کرائے کے مکان حاصل کر لیے تھے۔

ایف ڈی ایم اے کے ترجمان حسیب خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وادی تیراہ کے باغ اور میدان کے علاقے میں 92 دیہاتوں کو اب محفوظ قرار دیا جا چکا ہے اس لیے ان علاقوں کو واپسی کا سلسلہ بدھ سے شروع کیا جا رہا ہے۔

ان متاثرہ افراد کو تمام سہولیات فراہم کی جائیں گی جبکہ متاثرہ علاقوں میں ان افراد کی املاک کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں سروے کیا جائے گا۔

تیراہ کے متاثرہ افراد کی واپسی کا پہلا مرحلہ گذشتہ سال اکتوبر نومبر میں مکمل ہوا تھا اور اب یہ دوسرا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔

خیبر ایجنسی کے دیگر علاقوں کے متاثرہ افراد اس وقت نوشہرہ کے قریب جلوزئی کیمپ میں بھی مقیم ہیں جبکہ بڑی تعداد میں لوگ اپنے طور پر یا رشتہ داروں کے ہاں رہائش پزیر ہیں جن کی واپسی کے بارے میں تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔

شدت پسندی سے متاثرہ خیبر ایجنسی کے کئی علاقوں میں مختلف ادوار میں فوجی آپریشنز کیے گئے ہیں۔ ان متاثرہ علاقوں سے ہزاروں خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

خیبر ایجنسی میں شدت پسندی میں ملوث مختلف تنظیمیں متحرک ہیں جن میں لشکر اسلام ، تحریک طالبان پاکستان نمایاں ہیں جبکہ امن تنظیمیں اور لشکر بھی مختلف علاقوں میں حکومت کی حمایت سے موجود ہیں۔

اسی بارے میں