امام کعبہ کو پولیو مہم میں شامل کرنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طالبان کےساتھ مذاکراتی عمل میں قبائلی علاقوں میں پولیو مہم کے حوالے بھی بات کی جا رہی ہے: وزیر مملکت

عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے پولیو کے پھیلاؤ کی وجہ سے پاکستانیوں پر سفری پابندیوں کی تجویز کے بعد پاکستانی حکام نے ملک میں ایک خصوصی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں امام کعبہ بھی شریک ہوں گے۔

پاکستان دنیا کے ان تین ممالک میں شامل ہے جس کے شہریوں پر بیرونِ ملک سفر سے قبل پولیو سے بچاؤ کے قطرے پینے کی پابندی عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔

وزیر مملکت برائے صحت سائرہ تارڑ نے منگل کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے پاکستانی شہریوں پر لازم کر دیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک سفر سے پہلے انسداد پولیو کی ویکسین پییں اور ان مسافروں کے پاس ویکسین پلائے جانے کا سرٹیفیکیٹ بھی ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستانی پولیو فری سرٹیفکیٹ کے بغیر کسی ملک کا سفر نہیں کر سکیں گے جو کہ قابل تشویش اقدام ہے۔

سائرہ تارڑ نے کہا کہ اس سے قبل ہندوستان بھی اس طرح کی پابندیوں کا سامنا کر چکا ہے۔ انھوں نے ایوان کو آگاہ کیا کہ پاکستان کے پانچ ایئرپورٹوں سے روزانہ تقریباً 12 ہزار افراد بیرون ملک سفر کرتے ہیں۔

وزیرِ مملکت نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اگلے ماہ ملک سے پولیو کے خاتمے کے لیے ایک خصوصی مہم شروع کی جا رہی ہے جس میں امام کعبہ بھی شرکت کریں گے۔

ان کے مطابق آئندہ ماہ امام کعبہ پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں اور اس دورے کے دوران وہ پولیو مہم میں خصوصی طور پر حصہ لیں گے۔

انھوں نے کہا کہ پولیو کے پھیلاؤ میں مذہب کا عنصر رکاوٹ نہیں بلکہ متاثرہ علاقوں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث پانچ سال سے کم عمر کے بچوں تک پولیو ٹیموں کی عدم رسائی ہے۔

وفاقی وزیر کے مطابق 2014 کے دوران پولیو کے کیسوں میں مجموعی طور پر کمی آئی ہے لیکن اس پر مکمل طور قابونہیں پایا جا سکا۔

سائرہ افضل تارڑ نےبلوچستان حکومت کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو سالوں سے صوبہ بلوچستان سے پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا ہے جبکہ کراچی، پشاور اور قبائلی علاقوں میں پولیو کے کیسوں میں اضافہ ہوا ہے جہاں پولیو ورکروں پر حملے ہوئے ہیں۔

انھوں نےکہا کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے پولیو کے خلاف بہتراقدامات کیے ہیں اور اس مقصد کے لیے علما کو بھی اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شدت پسند گروہوں نے کراچی، پشاور اور قبائلی علاقوں میں پولیو ورکروں کو نشانہ بنایا ہے

بعد میں قومی اسمبلی کے باہر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ مملکت سائرہ افضل تارڑ نے مزید کہا کہ بدھ کو ایک اعلیٰ سطحی اجلاس طلب کر لیاگیا ہے جس میں چاروں صوبائی وزرائے صحت اور سیکریٹریوں کے علاوہ وزارت داخلہ کےحکام بھی شرکت کر رہے ہیں تاکہ مستقبل کا لائحۂ عمل طے کیا جا سکے۔

انھوں نے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کوشش ہے کہ فوری طور پر بیرون ملک سفر کرنے والوں مسافروں کو تمام ایئر پورٹوں پر پولیوکے قطرے پلانےکے لیے خصوصی انتظامات کرے۔

ایک سوال کے جواب میں سائرہ افضل تارڑ کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل میں قبائلی علاقوں میں پولیو مہم کے حوالے بھی بات کی جا رہی ہے۔

ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ اگر ہم پولیو کے خلاف موثراقدامات کرنے میں کامیاب ہوگئے تو پابندیاں تین ماہ میں ختم یا نرم ہوسکتی ہے۔

یہاں دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ وفاقی وزیرمملکت برائے صحت سائرہ افضل تارڑ نے ایوان کے اندر پولیو کے حوالے سے ہونے والے اقدامات پر صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت کی تعریف کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت نے انسداد پولیو کے لیے اچھے اقدامات کیے: وزیرمملکت

لیکن اسی روز وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے ایوان کے باہرخیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عمران خان اور ان کی جماعت اسلام آباد میں دھرنا دینے سے پہلےخیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں سے پولیو ختم کریں۔

تاہم تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹرعارف علوی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈبلیوایچ او کی جانب پابندی کے باعث عالمی سطح پر پاکستان کی بہت بدنامی ہوئی ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں پولیو کی موجودگی میں بین الاقوامی قوتوں کا بھی ہاتھ ہے جنہوں نے اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے کے لیے پولیو مہم کا سہارا لیا۔

اسی بارے میں