قومی اسمبلی: ڈپٹی سپیکر کی اجازت کے بغیر اذان

Image caption ڈپٹی سپیکر نے مولانا امیر زمان سے بار بار درخواست کی وہ اپنی نششت پرتشریف رکھیں تاہم وہ مسلسل بولتے رہے

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اجلاس میں اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہو گئی جب جمعیتِ علمائے اسلام کے رکن مولانا امیر زمان نے ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کی اجازت کے بغیر اچانک ایوان کے اندر نمازِ ظہر کے لیے اذان دینا شروع کر دی۔

یہ واقعہ بدھ کو اس وقت پیش آیا جب ارکانِ قومی اسمبلی ملک میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران رونما ہونے والے تشدد کے واقعات پر بحث کر رہے تھے۔

بلوچستان کے ضلع لورالائی سے تعلق رکھنے والے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رکنِ اسمبلی مولانا امیر زمان نے کھڑے ہو کر ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی کومخاطب کیا اور کہا کہ نماز کا وقت ہوگیا ہے لیکن آپ نے نمازِ ظہر کے لیے وقفہ نہیں دیا۔

مرتضیٰ جاوید نے کہا کہ مولانا صاحب جس وقت جماعت کا وقت تھا اس وقت تحریکِ انصاف کے رکن مخدوم جاوید ہاشمی کی تقریر لمبی ہو گئی تھی اور یوں نماز کے وقت میں تاخیر ہو گئی۔

ڈپٹی سپیکر نے مولانا امیر زمان سے بار بار درخواست کی وہ اپنی نشست پرتشریف رکھیں، تاہم وہ مسلسل بولتے رہے۔

اسی دوران جاوید عباسی نے پیپلز پارٹی کی خاتون رکن شاہدہ رحمانی کو ملک میں امن وامان کی صورتِ حال پر بحث کے لیے بولنے کی اجازت دی۔

جیسے ہی شاہدہ رحمانی نے اپنی تقریر کا آغاز کیا، عین اسی وقت مولانا امیر زمان نے اسمبلی ہال کے اندر اذان دینا شروع کر دی۔

ڈپٹی سپیکر نے مولانا امیر زمان کا مائیک بند کر دیا لیکن کئی بار منع کرنے کے باجود امیر زمان نے اذان کا سلسلہ جاری رکھا۔

اذان کے بعد مولانا امیر زمان اپنی نشست چھوڑ کر سپیکر کے ڈائس کے سامنےآئے اور نمازِ ظہرادا کرنے کے لیے اپنی چادر بچھا کر ایوان کے اندر نماز پڑھے لگے۔

اس موقعے پر جاوید عباسی نے فوری طور پر اسمبلی کی کارروائی روک کر اجلاس جمعرات کی صبع دس بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

مولانا امیر زمان کی اذان سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کی خاتون رکن آسیہ ناصر نے اعلان کیا کہ یورپی ممالک کے نوجوانوں پر مشتمل ایک وفد پاکستان کے منتخب نمائندوں کی کارکردگی دیکھنے کے لیے اس وقت ایوان میں موجود ہے، جس پر ڈپٹی سپیکر نے تمام ارکان کی جانب سے انھیں خوش آمدید کہا۔

اسی بارے میں