وزیرستان میں طالبان کی آپس میں جھڑپیں، دس ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان جھڑپوں میں اب تک تحریک طالبان کے بعض اہم کمانڈر بھی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں عصمت اللہ شاہین، امیر حمزہ اور کشید خان شامل ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے دو اہم گروپوں کے مابین جھڑپوں میں ایک مرتبہ پھر شدت آ رہی ہے اور گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی لڑائی میں کم سےکم دس شدت پسند مارے گئے ہیں۔

مقامی اور سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے دور افتادہ پہاڑی علاقے شوال میں جھڑپوں میں اس وقت شدت آئی جب خان سید سجنا اور شہریار گروپ کے جنگجوؤں نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر بھاری اور خود کار ہتھیاروں سے حملہ کر دیا۔

طالبان طالبان سے لڑ پڑے

ذرائع کے مطابق دونوں گروپوں کے درمیان منگل کی صبح لڑائی کا سلسلہ شروع ہوا جو رات گئے تک جاری رہا۔ اس میں دونوں جانب سے کم سے کم دس عسکریت پسند مارے گئے ۔ تاہم بعض مقامی ذرائع نے ہلاکتوں کی تعداد 16 کے قریب بتائی ہے۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ فریقین گذشتہ تین دنوں سے پہاڑی علاقوں میں مورچہ زن ہیں اور ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر وقفے وقفے سے حملے کر رہے ہیں۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ بدھ کی صبح بھی فریقین نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر تازہ حملے کیے ہیں جن میں ہونے والی ہلاکتوں کے بارے میں مصدقہ اطلاعات نہیں مل سکیں۔

ادھر تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد کی طرف سے حالیہ جھڑپوں کے حوالے سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آ سکا ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ ماہ خان سید سجنا اور شہریار محسود گروپوں کے مابین لڑائی میں 50 کے قریب افراد مارے گئے تھے۔ تاہم اس لڑائی کا دائرہ جب ٹانک اور وزیرستان کے دیگر علاقوں تک پھیلنے لگا تو تحریک طالبان پاکستان اور حقانی نیٹ ورک کے بعض سینیئر کمانڈروں نے مداخلت کرتے ہوئے فریقین کے مابین ایک ماہ کی جنگ بندی کرا دی تھی۔ لیکن بظاہر یہ کوششیں بھی زیادہ کارگر ثابت نہیں ہوئیں اور فائر بندی کے باوجود دونوں گروپوں کی طرف سے خفیہ طور پر ایک دوسرے کے جنگجوؤں کو ٹارگٹ کلنگ اور بم دھماکوں میں نشانہ بنائے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔

ان جھڑپوں میں اب تک تحریک طالبان کے بعض اہم کمانڈر بھی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں عصمت اللہ شاہین، امیر حمزہ اور کشید خان شامل ہیں۔

خیال رہے کہ خان سید سجنا کا تعلق ولی الرحمان اور شہریار گروپ کا تعلق حکیم اللہ محسود کے دھڑے سے بتایا جاتا ہے۔ دونوں گروپ محسود قبیلے سے بتائے جاتے ہیں۔ ان گروپوں کے مابین جنوبی وزیرستان کی امارت اور بعض دیگر امور پر بہت پہلے سے اختلافات چلے آرہے ہیں۔

تاہم حکیم اللہ محسود اور ولی الرحمان کی زندگی میں یہ اختلافات زیادہ گہرے نہیں تھے لیکن ان دونوں کمانڈروں کی ڈرون حملوں میں ہلاکت کے بعد اب یہ اختلافات کھل کر سامنے آگئے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ ان دونوں دھڑوں نے کراچی میں بھی ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

اسی بارے میں