’طالبان نے پیش رفت نہ کی تو مذاکرات جاری رکھنا مشکل ہو گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption عوام اب مذاکراتی عمل کے نتائج مانگتے ہیں: عرفان صدیقی

وزیراعظمِ پاکستان کے سیاسی امور کے معاونِ خصوصی عرفان صدیقی نے کہا ہے کہ اگر تحریک طالبان کی قیادت نے مذاکرات کے لیے فوری اور ٹھوس پیش رفت نہ کی تو حکومت کے لیے مذاکرات کے عمل کو جاری رکھنا ممکن نہیں ہو گا۔

بی بی سی اردو کے ساتھ اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے وزیرِاعظم کے معاونِ خصوصی کا کہنا تھا کہ طالبان کے ساتھ مذاکراتی عمل پر حکومت عوامی دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

’عوام اب اس عمل کے نتائج مانگتے ہیں جو بہرحال اب تک سامنے نہیں آ سکے ہیں۔‘

’جنگ بندی کے بغیر بامقصد مذاکرات نہیں ہو سکتے‘

شکایات کی فہرستیں تیار کرنے کا کہا گیا ہے: یوسف شاہ

طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لیے بنائی گئی پہلی سرکاری کمیٹی کے رابطہ کار عرفان صدیقی نے کہا کہ قیام امن کے لیے ہونے والے ان مذاکرات کا طویل ہونا خود مذاکراتی عمل کے لیے اچھا شگون نہیں ہے۔

’ہم نے یہ بات مذاکرات کے آغاز پر ہی واضح کر دی تھی کہ یہ مذاکرات جلد از جلد منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی کیونکہ یہ حساس عمل غیر معینہ مدت تک جاری نہیں رکھا جا سکتا۔‘

فوج اور حکومت کے درمیان تناؤ کے تاثر کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر عرفان صدیقی نے کہا کہ یہ بیانیہ صرف ایک مفروضہ ہے۔

عرفان صدیقی نے کہا کہ گذشتہ چند ہفتوں کے دوران فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف اور وزیراعظم نواز شریف کے درمیان کئی بار ملاقاتیں ہوئی ہیں جن میں دوستانہ ماحول میں قومی امور پر تبادلہ خیال ہوا ہے۔

’ان براہِ راست ملاقاتوں نے اس امکان کو بھی ختم کر دیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان کسی قسم کی غلط فہمی پیدا ہو سکے۔‘

انھوں نے کہا: ’بعض عناصر اور رہنما اس مفروضے کی بنیاد پر عوامی تحریکیں چلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اصل صورتحال سے بے خبر ہیں اور ملکی سیاست اور قومی معاملات کا درست ادراک نہیں کر پا رہے۔‘

عرفان صدیقی کے بقول عمران خان اتوار کے روز سے جس تحریک کا آغاز کرنے کا اعلان کر رہے ہیں اس کی سمت اور مقصد خود انھیں بھی معلوم نہیں ہے۔

’خان صاحب نے واضح کیا ہے کہ وہ وسط مدتی انتخابات بھی نہیں چاہتے اور وہ موجودہ بندوبست کو بھی پانچ سال تک جاری رکھنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں عوام کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا مقصد کیا ہے۔‘

جنگ میڈیا گروپ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے درمیان تنازعے کے بارے میں عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت اس ساری صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لے رہی ہے اور آئین اور قانون کے مطابق اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔

’وزیراعظم کی خواہش ہے کہ اس موقع پر میڈیا رضاکارانہ طور پر اپنی آزادی کی حدود کا خود تعین کرے اور ایسا ضابطۂ اخلاق وضع کرے کہ آئندہ کبھی ریاستی اداروں کو میڈیا کے خلاف متحرک ہونے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ اس تنازعے کے بعد سے مختلف ٹیلی وژن چینلوں اور اخبارات نے جو موقف اور رویے اختیار کیے ہیں اس سے ان کے دیکھنے اور پڑھنے والوں کا استحقاق بری طرح سے مجروح ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر بڑے بڑے میڈیا گروپس ایک دوسرے کے گریبان نوچتے رہیں گے تو سب سے زیادہ نقصان ان کا اپنا ہو گا۔

اسی بارے میں