بلوچستان: مختلف واقعات میں 14 ہلاکتیں

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption مسلح تصادم کے واقعے کے بعد چند افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے: حکام

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے نصیر آباد ڈویژن میں تین مختلف واقعات میں 14افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ان میں سے 13 افراد کی ہلاکت کا واقعہ ضلع جھل مگسی میں پیش آیا۔

جھل مگسی میں ہلاک ہونے والوں میں سے 11 افراد لغور کے علاقے میں ایک مسلح تصادم میں ہلاک ہوئے۔

جھل مگسی انتطامیہ کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں دو قبیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے بچوں کے درمیان معمولی بات پر لڑائی کے بعد دونوں قبیلوں سے تعلق رکھنے والے افراد میں مسلح تصادم ہوا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف جدید اسلحے کے استعمال سے فریقین کے 11 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

ہلاک ہونے والوں میں سات کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو خواتین اور دو بچے بھی شامل ہیں۔

اس واقعے کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی۔اہلکار نے بتایا کہ اس واقعے کے بعد چند افراد کو گرفتاری بھی عمل میں آئی ہے۔

جھل مگسی میں ہی ایک اور واقعے میں زمین کے تنازعے پر مسلح تصادم میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

فائرنگ کا تیسرا واقعہ جھل مگسی سے متصل ضلع نصیرآباد کے علاقے ڈیرہ مراد جمالی میں پیش آیا۔

پولیس کے مطابق ڈیرہ مراد جمالی ریلوے پھاٹک کے قریب پولیس کی چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افرادنے حملہ کیا۔

اس حملے کے نتیجے میں پولیس کا ایک ہیڈ کانسٹیبل ہلاک جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔

اسی بارے میں