غداری مقدمہ:’مشرف کو تفتیش کی نقول دی جائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption خصوصی عدالت نے کہا ہے کہ شہادتیں ریکارڈ کرنے کا عمل 22 مئی سے شروع ہو گا

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے استغاثہ کو اس مقدمے کی اب تک ہونے والی تفتیش کا ریکارڈ سابق صدر کے وکلا کو فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ 14 مئی کو اس مقدمے کی تفتیش کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا جائے اور اُسی روز اس تفتیش کی نقول پرویز مشرف کے وکلا کو فراہم کر دی جائیں۔

جسٹس فیصل عرب کی سربراہی میں تین رکنی خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کے وکلا کی جانب سے اس مقدمے کی تفتیش کا ریکارڈ فراہم کرنے سے متعلق دائر کی گئی درخواست کا فیصلہ سُناتے ہوئے کہا کہ مقدمے کی تفتیش کا ریکارڈ حاصل کرنا ملزم کا حق ہے اور اُسے اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اس مقدمے میں استغاثہ کی جانب سے پیش کیے جانے والے گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے کا سلسلہ 22 مئی سے شروع کیا جائے گا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ملزم کے وکیل کو اس مقدمے کی اب تک ہونے والی تفتیش کی کاپی فراہم کرنے اور گواہوں کے بیانات ریکارڈ کرنے میں ایک ہفتے کا وقت ہے اور اس دوران وہ اس مقدمے کے ریکارڈ کا صحیح مطالعہ بھی کر سکیں گے۔

یاد رہے کہ خصوصی عدالت نے اس مقدمے میں پرویز مشرف پر فرم جُرم عائد کی ہے تاہم اُنھوں نے صحت جُرم سے انکار کیا ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے سے متعلق استغاثہ کی جانب سے دائر کی گئی درخواست بھی سماعت کے لیے منظور کر لی ہے اور آئندہ سماعت پر اس درخواست پر عدالتی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

سابق فوجی صدر ان دنوں کراچی میں ہیں جہاں پر وہ اپنے معالج سے علاج کروا رہے ہیں۔ پرویز مشرف کو ڈاکٹروں نے بیرون ملک علاج کروانے کا مشورہ دے رکھا ہے۔

اسی بارے میں