قومی اسمبلی میں امن و امان پر بحث مگر راشد رحمان کا ذکر نہیں

قومی اسمبلی میں جمعرات کو امن و امان کی صورت حال پر بحث کے دوران اکثر ارکان نے مسلم لیگ ن کی حکومت کو تو تنقید کا نشانہ بنایا لیکن سوائے ایم کیوایم کی ایک خاتون رکن کے کسی نے بھی ملتان میں انسانی حقوق کے متحرک کارکن راشد رحمان کی ہلاکت کا ذکر تک نہیں کیا۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کی خاتون رکن قومی اسمبلی محترمہ شاہدہ رحمانی نے راشد رحمان کی ہلاکت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کوایک سال پوراہوگیاہے لیکن دہشت گردی اور تشدد کی کاروائیوں میں کمی کی بجائے اضافہ ہوا ہے۔

انھوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے پہلے دن ہی اسمبلی کے فلور پر حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ طالبان سے مذاکرات کے لیے وقت کا تعین کیا جائے تاکہ قوم کو معلوم ہو کہ کب تک امن وامان کا مسئلہ حل ہوگا لیکن حکومت نے آج تک ٹائم فریم نہیں دیا ہے۔

انھوں نے طالبان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کے نام پر دہشت گردوں کو وقت مل گیا ہے جس سے فائدہ اٹھا کر وہ دوبارہ منظم ہو رہے ہیں اور نتیجے میں ملک کے کسی حصے میں نہ تو صحافی، نہ عبادت گاہیں اورنہ ہی غیر ملکی سیاح محفوظ ہیں۔

اپنے خطاب میں جمعیت علمائے اسلام کے رکن مولانا گوہر شاہ نے تجویز پیش کی کہ قبائلی ارکان قومی اسمبلی اور جرگے کے نمائندوں کو بھی مذاکراتی عمل کا حصہ بنایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ’جب تک ہم سزا اور جزاء کے نظام پر عمل نہیں کریں گے اس وقت تک ملک میں قیام امن ممکن نہیں ہے۔‘

جماعت اسلامی کے رکن شیر اکبر خان کا کہنا تھا کہ ہرشہری کی جان اور مال کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت وقت کی ہے لیکن بدقسمتی سے نائن الیون کے بعد پاکستان کو دہشت گردی نے اپنے لپیٹ میں لیا ہے۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ قیام امن کے لیے طالبان سے مذاکرات کے علاوہ دیگر اقدامات بھی کیے جائیں تاکہ ملک میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر قابو پایا جا سکے۔

اسی بارے میں