’مذہب کاروبار بن جائے تو درندوں کا راج باقی رہ جاتا ہے‘

Image caption راشد رحمان مظلوم خواتین کے مقدمات کی پیروی کرتے تھے

ملتان میں توہین رسالت کے ملزم کے وکیل راشد رحمان کی ٹارگٹ کلنگ کی خبر سن کر پہلی مرتبہ احساس ہوا جیسے انتہاپسند سوچ نے میرے گھر کو نشانہ بنایا ہو۔

ایسا نہیں کہ وہ میرے خاندان سے ہیں، مگر چند ہفتے پہلے ہی ان سے ملی تھی کیونکہ انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ توہین رسالت کے مقدمے کی سماعت کے دوران ہی انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں اور وہ بھی صرف اس لیے کہ وہ ملزم کا دفاع کر رہے ہیں۔

توہین رسالت کے الزام میں گرفتار جنید کی وکالت کرنے پر ان کے مخالفین نے راشد رحمان کو ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے کہا کہ وہ اس سنگین جرم کے ملزم کی وکالت نہ کریں ورنہ اگلی پیشی تک وہ نہیں بچیں گے۔

انھوں نے مجھے ایس ایم ایس کے ذریعے اس صوت حال سے آگاہ کیا تو میں ان سے ملنے ملتان پہنچی۔

اس سفر میں جیسے جیسے آپ اندورنِ پنجاب داخل ہوتے ہیں ویسے ویسے آپ کو احساس ہوتا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو بعض واقعات میں کس قدر لاپروائی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہی خدشہ راشد رحمان کو تھا، اسی لیے وہ اس مقدمے کا حصہ بنے تھے۔

راشد رحمان ایک بہادر شخص تھے۔ انھوں نے مشکلات کے باوجود انتہاپسندی کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption راشد رحمان کے اہلِ خانہ کے مطابق انھیں دھمکیاں مل رہی تھیں

جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو اتنے غیر محفوظ دفتر اور پھر کچہری میں آنے سے ڈر نہیں لگتا؟ تو جنید کے والد کی جانب اشارہ کر کے بولے: ’ میں ان کی آخری امید ہوں۔ وکلا ڈر کے مارے ان کا مقدمہ لڑنے سے انکار کر رہے ہیں، لیکن مجھے میرے کام سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘

راشد رحمان کے چہرے پر ذرا بھی ڈر نظر نہیں آیا۔ وہ بہت اعتماد کے ساتھ مجھے ملتان سینٹرل جیل لے کر گئے جہاں جنید پر لگے توہین رسالت کے الزام کی سماعت ہو رہی تھی۔

وہ خود تو نہیں ڈرتے تھے مگر انھیں جنید کی جان کا خطرہ تھا اسی لیے انھوں نے عدالت سے جنید کے مقدمے کی سماعت سینٹرل جیل ہی میں کرنے کی درخواست کی جسے قبول کر لیا گیا۔ وہ جنید کے والد کے ساتھ ان کی گاڑی میں اپنے ایک ساتھی کے ساتھ جیل کے لیے نکلے۔

اس موقع پر جب میں نے ان سے پوچھا آپ کے پاس سکیورٹی کیوں نہیں تو بولے ’میں وکیل ہوں کوئی حکمران نہیں۔‘

پنجاب میں خواتین پر ہونے والے گھریلو تشدد، کاروکاری اور جنسی غلامی کے مختلف واقعات کے سلسلے میں راشد رحمان سے کئی بار ملاقات ہوئی۔ جب بھی ان کے ایک کمرے کے دفتر میں جاتی تھی جہاں کوئی نہ کوئی مظلوم خاتون مدد حاصل کرنے کے لیے موجود ہوتی تھی۔ ایک 17 سالہ لڑکی جو انسانی سمگلنگ کا شکار ہوئی، اس کی بازیابی پر راشد رحمان اتنے ہی خوش تھے جتنا اس کا خاندان۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ گذشتہ سات برس سے اس لڑکی کو تلاش کر رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ ملتان کے دوردراز دیہات سے آنے والے سکینہ کے خاندان کی کوئی نہیں سنے گا اس لیے خود ہی پولیس کے پیچھے پڑے رہے اور بالآخر سیکنہ سات برس بعد تین بچوں کے ساتھ بازیاب ہو گئی۔

ایسی بے شمار کہانیاں ہر روز ان کے دفتر خود چل کر آتی تھیں۔ جیسے وہ غریب اور مظلوم خواتین کا اندورن پنجاب میں واحد سہارا ہوں۔

جب بھی ان سے بات کی تو محسوس ہوا کہ وہ اپنے کام کو نوکری نہیں سمجھتے تھے بلکہ پاکستانی معاشرے میں پھیلی انتہاپسندی اور جہالت انھیں تنگ کرتی تھی اور وہ اسے بدلنے کے لیے محدود وسائل اور چند ساتھیوں کے ہمراہ نکلے ہوئے تھے۔

وہ کہتے تھے: ’جس معاشرے میں مذہب کو بیچنا کاروبار بن جائے وہاں صرف درندوں کا راج باقی رہ جاتا ہے۔‘

اس مرتبہ جب میں ملتان میں ان سے ملی تو ملاقات ختم ہونے پر کہا کہ آئیے آپ کو گھر چھوڑ دوں تو وہ بولے: ’یہ پاگل لوگ ہیں، ایسا نہ ہوں میرے ساتھ آپ کو کو بھی جان گنوانی پڑے۔‘

میں تو انھیں گذشتہ تین برس سے جانتی تھی مگر ان سے مل کر ہمیشہ یہ احساس ہوا کہ ان کی جدوجہد بہت پرانی ہے۔ وہ معاشرے میں پھیلتی مذہبی انتہاپسندی سے پریشان ضرور تھے مگر پرامید تھے کہ ان کی کوشش رنگ لائے گی۔

ابھی شاید یہ کوئی کہہ نہیں رہا، لیکن لگتا ہے کہ ہرگزرتے دن کے ساتھ ساتھ راشد رحمان اور ان کا غم کرنے والے لوگ کم ہوتے جا رہے ہیں اور اپنے مفادات کے لیے معاشرے میں بندوق کی نوک پر تنگ نظری پھیلانے والے جیتتے جا رہے ہیں۔

توہینِ رسالت کے مقدمے میں دھمکی کے بعد راشد رحمان کی ہلاکت پر بیشتر پاکستانی محتاط بیانات دے رہے ہیں۔ کون چاہے گا کہ اس کے ساتھ راشد رحمان والا سلوک کیا جائے؟ مگر اگر اس نوعیت کی باقی اموات کی طرح اگر ہم نے راشد رحمان کو بھی بھلا دیا تو راشد رحمان کی ہار کے ذمہ دار ہم سب ہوں گے۔

اسی بارے میں