اسلام آباد: ’دو بھارتی صحافیوں کو ملک چھوڑ دینے کا حکم‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وال سٹریٹ جرنل کے مطابق دونوں بھارتی صحافیوں کوجمعرات کے روز مطلع کیا گیا کہ ان کے ویزوں کی تجدید نہیں کی جائے گی

پاکستانی حکام نے اسلام آباد میں مقیم دو بھارتی صحافیوں کے ویزوں کی تجدید نہ کرتے ہوئے انھیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

ذرائع نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ جمعرات کو بھارتی اخبار دی ہندو کی نمائندہ مینا مینن اور بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سنیش فلپ کو فون کر کے بتایا گیا کہ ان کے ویزوں کی تجدید نہیں کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق دونوں بھارتی صحافیوں کو یہ احکامات وزارتِ اطلاعات کے محکمہ ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کی جانب سے دیےگئے ہیں۔

یہ فون کال ایکسٹرنل پبلسٹی ونگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر الطاف حسین کی جانب کی گئی۔

جمعرات کو کی گئی فون کال میں بھارتی صحافیوں کو مزید کہا گیا کہ ایک ہفتے کے اندر ملک چھوڑ دیں اور ان کو یہ احکامات تحریری شکل میں جمعرات ہی کو مل جائیں گے۔

تاہم ذرائع کے مطابق ’دونوں صحافیوں کو بعد کہاگیا کہ تحریری احکامات جمعہ کو مل جائیں گے اور پھر ان کو بتایا گیا کہ ہفتہ کے روز مل جائیں گے۔ لیکن ابھی تک تحریری احکامات نہیں دیے گئے۔‘

اس سے قبل امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق بھارتی صحافیوں کو دو ہفتے کے اندر اندر ملک چھوڑنے کا کہا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق دونوں بھارتی صحافیوں کوجمعرات کے روز مطلع کیا گیا کہ ان کے ویزوں کی تجدید نہیں کی جائے گی۔

وال سٹریٹ جرنل نے جب پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے ایڈیٹر انچیف ایم کے رازدان سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ’ہمیں ابھی تک اس بارے میں کوئی تصدیق نہیں ملی ہے۔‘

دی ہندو کے اعلیٰ عہدیدار تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

تاہم بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ایک نمائندے نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ وہ اس پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کرسکتے۔

یاد رہے کہ دی ہندو کی نمائندہ مینا مینن اور بھارتی خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے سنیہش فلپ اگست 2013 میں پاکستان آئے تھے۔

ان کے ویزے کی مدت نو مارچ 2014 تک تھی اور انہوں نے اپنے ویزوں کی تجدید کی درخواستیں جمع کروائی ہوئی تھیں۔

واضح رہے کہ نیو یارک ٹائمز کے اسلام آباد کے سابق بیورو چیف ڈکلن والش کو مئی 2013 کے انتخابات کے موقع پر نگران حکومت نے ’نا پسندیدہ سرگرمیوں میں ملوث‘ ہونے کے الزامات پر پاکستان بدر کر دیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کی ویب سائٹ کے مطابق ڈیکلن والش کو پولیس نے وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ایک دو سطری خط لا کر دیا جس میں صرف اتنا لکھا ہوا تھا: ’آپ کو خبردار کیا جاتا ہے کہ آپ کی ناپسندیدہ سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔ اس لیے آپ 72 گھنٹوں کے اندر اندر ملک چھوڑ دیں۔‘