نئے الیکشن کمیشن کی تشکیل تک احتجاج جاری رہے گا: عمران خان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عمران خان کے خطاب سے قبل، شیخ رشید نے بھی اپنے مخصوص انداز میں جلسے سے پرجوش خطاب کیا

پاکستان میں انتخابات کے ایک سال مکمل ہونے پر پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد میں احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے نئے الیکشن کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اتوار کو ڈی چوک میں ہونے والے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’جب تک نئے الیکشن کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ پورا نہیں ہو جاتا تب تک ہر جمعے کو الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ کرتے رہیں گے۔‘

عمران خان نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان چار حلقوں کے ووٹوں کی تصدیق کرائی جائے جن کی پی ٹی آئی نشاندہی کر چکی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بایو میٹرکس نظام لایا جائے تاکہ انتخابات میں دھاندلی حتم ہو جائے۔

عمران خان نے اعلان کیا کہ 23 مئی کو صوبہ پنجاب کے شہر فیصل آباد میں جلسہ کیا جائے گا اور اس جلسے میں اس سے اگلے جلسے کے مقام کا اعلان ہوگیا۔

عمران خان نے تقریر میں ریٹرننگ آفیسرز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’بتاؤ کہ یہ میچ فکسنگ انفرادی طور پر کی یا ٹیم نے مل کر کی۔‘ اپنی تقریر میں پی ٹی آئی کے چیئرمین نے نجی ٹی وی چینل جیو کے مالک کو بھی نشانہ بنایا اور کہا کہ یہ ٹی وی چینل ان کی کردار کشی کر رہا ہے۔

اسلام آباد میں ہمارے نامہ نگار رضا ہمدانی نے بتایا کہ اسلام آباد کے ڈی چوک احتجاجی ریلی کی سکیورٹی کے حوالے سے پولیس کے مطابق پانچ ہزار اہلکار مامور کیےگئے تھے۔

اسلام آباد انتظامیہ نے جناح ایونیو کے اطراف کے تمام راستے بند کردیے تھے اور ڈی چوک میں جلسے گاہ پر پہچنے کے لیے صرف جناح ایونیو ہی کا راستہ استعمال کیا جا سکتا تھا۔

جناح ایونیو پر ڈی چوک سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر سکیورٹی چیک کے لیے تین تہیں تھیں جن سے گزر کر ہر شخص جلسے گاہ تک پہنچ رہا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے اس جلسے کے منتظمین نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس جلسے میں 40 ہزار کرسیاں لگوائی گئی ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف کے رہنما ڈاکٹر عارف علوی کا کہنا تھا کہ پولیس نے اسلام آباد کے داخلی راستوں پر جگہ جگہ ناکے لگا رکھے ہیں اور ان کے بہت سے کارکنوں کو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا۔

لاہور میں احتجاج

Image caption احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ حکومت اور نظام کا خاتمہ واجب ہو چکا ہے

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی جو پنجاب اسمبلی پر اختتام پذیر ہوئی۔

پنجاب اسمبلی کے باہر احتجاجی ریلی سے پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دھاندلی کے ذریعے قائم ہوئی حکومت سے خیر کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔

طاہرالقادری نے حکومتِ پنجاب پر لوگوں کو جلسے میں شامل ہونے سے روکنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت لوگوں کے ساتھ ہے تو پھر لوگوں کو روکا کیوں گیا ہے۔

احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے طاہرالقادری نے کہا کہ حکومت اور نظام کا خاتمہ واجب ہو چکا ہے۔

لاہور میں پاکستان عوامی تحریک کے احتجاج میں مسلم لیگ ق نے بھرپور شرکت کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں