مہمند ایجنسی:دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حکومت اور طالبان کے درمیان ابتدائی رابطوں کے علاوہ بات چیت کے عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں بارودی سرنگ پھٹنے کے نتیجے میں ایک سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گیا ہے۔

پاکستان کے سکیورٹی ذرائع کے مطابق اہلکار کی ہلاکت شدت پسندوں کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگ کے پھٹنے کی وجہ سے ہوئی۔

یاد رہے کہ آٹھ مئی کو شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ، غلام خان روڈ پر دیسی ساختہ بم کے دھماکے میں نو سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔

دھماکے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا تھا، جبکہ گن شپ ہیلی کاپٹروں کی مدد سے شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر شیلنگ بھی کی گئی۔

گذشتہ روز بھی صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں ایک مسجد کے باہر خودکش دھماکے میں چار افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔

سات ماہ کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اب تک حکومت اور طالبان کے درمیان ابتدائی رابطوں کے علاوہ بات چیت کے عمل میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، حتیٰ کہ فریقین مستقل جنگ بندی پر بھی متفق نہیں ہو سکے ہیں۔

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کہہ چکی ہے کہ حکومت ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب جنگ اور دھمکی کی سیاست کر رہی ہے اور اس صورتحال میں بامقصد اور سنجیدہ مذاکرات ممکن نہیں۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال ستمبر میں نواز شریف کی حکومت نے ایک کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس کے بعد کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

تحریکِ طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا کہ طالبان نے ملک و قوم کو جنگ بندی کا ’تحفہ‘ دیا لیکن حکومت کی طرف سے مذاکرات کے دوران اب تک سنجیدگی یا خودمختاری نظر نہیں آئی۔

ترجمان کے مطابق ان کی جانب سے جو مطالبات پیش کیے گئے ان پر پیش رفت تو درکنار، حکومت طالبان کے خلاف سکیورٹی اداروں کی کارروائیاں بند کروانے میں بھی ناکام رہی ہے۔

اسی بارے میں