’الطاف حسین کو پاسپورٹ نہیں دیا تو احتجاج‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکام بتائیں کہ وہ کتنے دن میں ان کا شناختی کارڈ بنا کر دیں گے: الطاف حسین

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ان سے متعصبانہ طرز عمل بند کرے ورنہ ان کے چاہنے والوں کو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے پاکستان سمیت پوری دنیا میں پرامن احتجاج کا قانونی و آئینی حق حاصل ہے۔

الطاف حسین کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں حکام کے اس موقف پر انھیں صدمہ پہنچا ہے کہ الطاف حسین کی پاسپورٹ یا کسی اور چیز کی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے، درحقیقت انھوں نے چار اپریل کو جب پاکستانی پاسپورٹ کے لیے درخواست دی تو انھیں بتایا گیا کہ پہلے شناختی کارڈ بنانا پڑے گا۔

وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ الطاف حسین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے قانونی طریقۂ کار اختیار کرنا ہو گا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق پیر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ الطاف حسین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لیے لندن میں پاکستان کے ہائی کمیشن جا کر اپنی تصاویر اور بائیو میٹرکس (انگلیوں کے نشانات، آنکھوں کا سکین ) دینا ہوں گے۔

گذشتہ 20 سال سے لندن میں مقیم متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کا کہنا ہے کہ انھوں نے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کی موجودگی میں نادرا کے عملے کودرخواست دی تھی، نادرا کے عملے نے تصاویر اور فنگر پرنٹ لیے، اور جو دستاویزات مانگیں وہ انھیں فراہم کیں۔

’اگر میں پاکستانی نہیں ہوں تو پھر کوئی بھی پاکستانی نہیں ہے اور مجھ سے میری پاکستانیت دنیا کی کوئی طاقت نہیں چھین سکتی۔ میرے علاوہ پاکستان کے دیگر بڑے بڑے سیاسی رہنما کئی سال سے اپنی مرضی یا حالات کے جبر کے تحت جلاوطن نہیں ہوئے۔ جب پاکستان میں مجھ پر بموں سے قاتلانہ حملے کیے جانے لگے تو رابطہ کمیٹی اور کارکنان کی اکثریت نے مجھے بیرونِ ملک جانے کا مشورہ دیا تھا۔‘

الطاف حسین نے مطالبہ کیا کہ وزارت داخلہ اور نادرا کے حکام بتائیں کہ وہ کتنے دن میں ان کا شناختی کارڈ بنا کر دیں گے، بصورت دیگر وہ عدالت عظمیٰ سے رجوع کریں گے۔

اس سے پہلے سینیٹ میں ایم کیو ایم کے اراکین نے احتجاج کیا۔ اس دوران سینیٹر طاہر مشہدی کا کہنا تھا کہ اگر الطاف حسین کو پاسپورٹ نہیں دیا گیا تو وہ کراچی سمیت کئی شہروں کو بند کر دیں گے۔

اسی بارے میں