پاکستان میں جب صحافیوں کو کوڑے مارے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ online
Image caption پاکستان میں ہرسال کارکن صحافی 13 مئی کو یومِ آزادیِ صحافت مناتے ہیں

13مئی کو 36 سال گزر جانے کے باوجود پاکستانی صحافی اس واقعے کو نہیں بھولے جب 1978 کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں تین صحافیوں کو ننگا کر کے صرف اس لیے کوڑے مارے گئے کہ باقی صحافی عبرت حاصل کریں اور فوجی آمریت کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں۔

کوڑے کھانے والوں میں اس وقت کے 24 سالہ خاور نعیم ہاشمی بھی شامل تھے۔ وہ اب سینیئر صحافی اور جیو ٹی وی چینل لاہور کے بیورو چیف ہیں۔ ان کے ایئر کنڈیشنڈ دفتر میں ان سے ملاقات ہوئی جہاں وہ شیشے کے کیبن میں بیٹھ کر کئی ٹی وی سکرینوں کو دیکھتے رہتے ہیں۔

خاور نعیم ہاشمی یادوں میں کھوگئے۔ انھیں وہ وقت یاد آیا جب فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا دور میں آزادیِ صحافت کے لیے انھوں نے تین ساتھیوں مسعود اللہ خان، اقبال جعفری اور ناصر زیدی کے ہمراہ لاہور میں پنجاب اسمبلی کے نزدیک ایک پررونق چوک میں گرفتاری پیش کی۔

’وہ بھی کیا دور تھا جب اس چوک پر لوگ ہی لوگ تھے۔ مرد خواتین اور سکول کے بچے تک تھے۔ لوگوں نے ہم پر پھول نچھاور کیے اور گلدستے پیش کیے۔ پولیس ہتھکڑی لگا کر لے گئی اور چاروں صحافیوں کو دو روز تک حوالات میں بند رکھنے کے بعد فوجی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پہلے انھیں سارا دن دھوپ میں کھڑا رکھا گیا اور پھر ایک فوجی عدالت میں میجر رینک کے افسر کے سامنے پیش کیا گیا۔‘

ان چاروں صحافیوں نے مفاہمت کی مبینہ فوجی پیشکش ٹھکرا دی جس کے بعد انھیں کوڑے مارنے کا حکم سنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Zahid Hussein
Image caption جنرل ضیاء کی حکومت میں سیاسی کارکنوں کو بھی کوڑے مارئے گئے تھے

خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ ان دنوں صحافی روزانہ گرفتاریاں پیش کر رہے تھے اور چار سو سے زیادہ صحافی گرفتار ہو چکے تھے۔

فوجی حکمرانوں نے فیصلہ کیا کہ اگر نو مئی کو گرفتار صحافیوں کو کوڑے مار دیے گئے تو باقی صحافی ڈر کر گرفتاریاں دینے سے باز آ جائیں گے۔

انھیں 13 مئی کی شام کو کوڑے مارنے کی سزا سنائی گئی اور چاروں کو فوری طور پر لاہور کی کوٹ لکھپت جیل کی ڈیوڑھی میں پہنچا دیا گیا جہاں نوجوان خاور نعیم ہاشمی نے آزادی ہند کے رہنما بھگت سنگھ کو یاد کر کے اپنے حوصلے بلند رکھے۔

پاکستان کے ان تینوں صحافیوں نے اپنی ذات کی خاطر یہ تکلیف برداشت نہیں کی تھی بلکہ وہ فوجی آمریت کے خلاف سینکڑوں دوسرے کارکن ساتھیوں کے ساتھ مل کر اپنے طور پر عوام کی آزادی کی جنگ لڑ رہے تھے۔

مسعود اللہ خان اپاہج تھے، ان کو کوڑے نہیں مارے گئے لیکن باقی تینوں کو کوڑے مارنے کے لیے ننگا کر دیا گیا۔

خاور نعیم ہاشمی اور ان کے ساتھیوں کو جب کوڑے مارنے کے لیے برہنہ کیا گیا تو وہ لمحات ان کے لیے ذلت آمیز نہیں بلکہ فخر کا باعث بنے۔

’ہمارے انڈروئیر تک اتار دیے گئے تھے۔‘

خاور نعیم ہاشمی نے کہا کہ سب سے پہلے ناصر زیدی کو کوڑے مارے گئے جو اس وقت ٹی بی کے مریض تھے۔ دوسرا نمبر خود خاور نعیم ہاشمی کا تھا وہ بھی بہت دبلے پتلے تھے جبکہ سب سے آخر میں کوڑے کھانے والے اقبال جعفری تھے جو نسبتاً کافی صحت مند تھے۔

‘لیکن صحت مند ہونا اور جسم پر گوشت ہونا اقبال جعفری کے لیے خطرناک نکلا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption 1978 کو اس وقت کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر، جنرل ضیا الحق کے خلاف صحافیوں نے ملک بھر میں آزادی صحافت کی ایک تحریک چلا رکھی تھی

بات یہیں ختم نہیں ہوئی تھی بلکہ کوڑے کھانے والوں کے حوصلے بلند اور مارنے والوں کے پست ہو چکے تھے، تبھی جیل کے سپرنٹینڈنٹ نے خاور نعیم ہاشمی کے کان میں ایک درخواست کی کہ اگر انھوں نے بہادری دکھائی اور سٹریچر پر نہ گئے تو ان کی پیٹی اتر جائے گی۔ خاور نعیم ہاشمی نے ان کی بات مان لی۔

خاور نعیم ہاشمی نے بتایا کہ پاکستان کے چار صحافیوں کو کوڑے مارے جانے کی خبر بی بی سی سے نشر ہوئی اور پھر پوری دنیا میں صحافیوں نے اس پر احتجاج کیا تھا۔

خاور نعیم ہاشمی کہتے ہیں کہ 13 مئی 1978 ان کی زندگی کا ایک یادگار دن تھااور وہ اسے کبھی بھلا نہیں پائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ آج بھی صحافیوں میں جوش و جذبہ موجود ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ جیل جانے اور کوڑے کھانے پر بھی تیار ہوں گے۔

جنگ اور جیو ان دنوں عسکری اداروں اور ان کے حامیوں سے سیاسی، ابلاغی او قانونی محاذ آرائی کے باعث ایک بحران سے گزر رہا ہے، اس ادارے کے سینیئر کارکن خاور نعیم ہاشمی کہتے ہیں کہ یہ دور پھر بھی نسبتاً بہتر ہے۔

اسی بارے میں