جھنگ میں 68 وکلا کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اطلاعات کے مطابق وکیل اپنے ساتھی کی گرفتاری کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے

پاکستان میں صوبہ پنجاب کے علاقے جھنگ میں 68 وکلا کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

یہ مقدمہ ضلع جھنگ کی پولیس نے درج کیا ہے۔ مقامی صحافی عدنان نور نے بی بی سی کو بتایا کہ وکلا پر یہ مقدمہ ایک احتجاج کے دوران نعرے بازی میں استعمال کیے گئے کلمات کی وجہ سے قائم کیا گیا ہے۔

’قانون کے خاتمے یا اصلاح تک عمل درآمد روک دیں‘

’توہین رسالت کےغلط الزام پر بھی سزائے موت ‘

انھوں نے بتایا کہ ’سات مئی کو ڈسٹرکٹ بار ضلع جھنگ کے آفتاب ندیم ایڈووکیٹ کو پولیس نے مختلف دفعات کے تحت حراست میں لیا تھا۔ دوسرے روز وکلا نے تھانہ کوتوالی کے ایس ایچ او عمر دراز کے خلاف احتجاج کیا، تاہم ارشد محمود نامی ایک مقامی شخص نے ڈسٹرکٹ بار جھنگ کے نو نامزد اور سات دیگر وکلا کے خلاف توہینِ مذہب کی درخواست دے دی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان میں توہینِ مذہب کے قانون کے ناجائز استعمال کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں اور اس سلسلے میں مظاہرے بھی کیے گئے ہیں

ارشد محمود نامی مقامی شخص کا کہنا ہے کہ وکلا نے ایس ایچ او کا نام لے کر گالیاں دی ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اس کے پاس ویڈیو موجود ہے جس میں وکلا نے گالیاں دی ہیں۔

مدعی کے مطابق: ’ایڈوکیٹ ضیاء حسین کاظمی، سید نصرت بخاری ایڈووکیٹ، نواز بلوچ ایڈووکیٹ، مرزا سلمان حیدر ایڈووکیٹ، سید فخر عباس شاہ، آفتاب نوید ایڈووکیٹ، حیدر ایڈووکیٹ، سلمانہ ایڈووکیٹ اور علی رضا رضوی گالیاں دیتے رہے ہیں۔‘

بتایا جاتا ہے کہ وکلا میں سے زیادہ تر کا تعلق شیعہ برادری سے ہے۔ ایس ایچ او عمر دراز خود کو صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا رشتہ دار بتاتے ہیں۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر وکلا اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان بات چیت جاری ہے۔

دوسری جانب جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم کا کہنا ہے کہ جس نے بھی ایف آئی آر کٹوائی ہے وہ خود مجرم ہیں اور فرقہ واریت کو پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’چونکہ ایس ایچ او کا نام عمر تھا، اس لیے وکلا نے ایس ایچ او کے نام پر بات کی، لیکن اسے حضرت عمر کے نام کے ساتھ نسبت کرنا غلط ہے۔‘

مفتی نعیم کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ اس قسم کے معاملات پر توجہ دے اور عدالت کا کام ہے کہ وہ معاملے کی حقیقت کو بھی دیکھے کیونکہ یہ آگ لگانے والی بات ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میرا نام محمد نعیم ہے لیکن اگر میرے حلاف ایف آئی آر کٹی تو اس کا مطلب یہ نہیں لیا جا سکتا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد کی توہین ہوئی ہے۔

پچھلے کچھ برسوں میں پاکستان میں توہینِ مذہب کے الزامات متنازع رہے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور سول سوسائٹی کی جانب سے اس قانون میں اصلاح اور اس پر عمل درآمد کے طریقۂ کار کی وضاحت کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں