خود مختار الیکشن کمیشن کے قیام پر اتحاد

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ برس کے عام انتخابات کے بعد پاکستان کی مختلف جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات لگائے ہیں

آزاد اور خود مختار الیکشن کمیشن کے قیام کے لیے پاکستان مسلم لیگ ق بھی پاکستان تحریک انصاف کی ہمنوا بن گئی ہے اور دونوں جماعتوں نے دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف کے سینئیر رہنماؤں مخدوم جاوید ہاشمی اور مخدوم شاہ محمود قریشی نے اسلام آباد میں مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور دیگر اراکین نے ملاقات کی۔

بعد ازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے نئے الیکشن کمیشن کے قیام کے لیے اپنے لائحۂ عمل کے بارے میں بتایا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے پر قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے کوششیں کی جائیں گی۔ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے یہ بھی کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ق کے علاوہ گذشتہ روز ہی پیپلز پارٹی نے بھی موجودہ الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

تحریک انصاف اور مسلم لیگ ق چار اراکین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دے رہی ہیں جو موجودہ قوانین کا جائزہ لے گی اور 2013 کے انتخابات کو بنیاد بنا کر مستقبل کی راہ تلاش کرے گی اور اصلاحی پہلو سامنے لا کر قومی اتفاق رائے پیدا کرے گی۔

انھوں نے بتایا کہ مسلم لیگ ق کی جانب سے کامل علی آغا اور طارق بشیر چیمہ، جبکہ پی ٹی آئی کی طرف سے ڈاکٹر عارف علوی اور شفقت محمود کمیٹی کا حصہ ہیں۔ اس موقعے پر مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ الیکشن کمیشن میں سب ایک جیسے نہیں۔ انھوں نے خیال ظاہر کیا کہ ایک دو جج خود بخود ہی استعفیٰ دے دیں گے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 120 دن میں حکومت نے فیصلے کرنے تھے لیکن اب 420 دن گزر گئے ہیں: ’ہارنے والے تو دھاندلی کا الزام لگاتے ہی ہیں مگر اتفاق کی بات ہے کہ اس بار دھاندلی کا الزام وہ جماعتیں بھی لگا رہی ہیں جو ان انتخابات میں کامیاب ہوئی ہیں۔‘

اس موقعے پر پی ٹی آئی کے رہنما جاوید ہاشمی نے کہا کہ الیکشن کمیشن قوم کی امنگوں پر پورا نہیں اترا: ’جس طرح الیکشن کمیشن کے سربراہ فخرالدین جی ابراہیم نے استعفیٰ دیا، اخلاقی طور پر اسی روز انھیں (دیگر حکام کو) بھی مستعفی ہو جانا چاہیے تھا۔‘

پی ٹی آئی کا موقف ہے کہ ضمنی انتخابات میں بھی ایسی مثالیں ملتی ہیں جن سے الیکشن کمیشن کی غیر ذمہ داری کا اندازہ ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے 11 مئی کو دارالحکومت اسلام آباد میں نئے الیکشن کمیشن کے قیام اور دیگر مطالبات پیش کرنے کے لیے ایک احتجاجی ریلی منعقد کی تھی۔ 11 مئی ہی وہ تاریخ ہے جب گذشتہ سال ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ہوا تھا۔

ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ ن کو واضح اکثریت ملی تھی جبکہ پیپلز پارٹی نے سندھ اور پاکستان تحریک انصاف نے صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت بنائی تھی۔