کراچی آپریشن ٹیسٹ میچ سے ٹی ٹوئنٹی میں داخل؟

Image caption کراچی سٹیزن پولیس لیژان کمیٹی کے سابق سربراہ جمیل یوسف کا کہنا ہے کہ صورتحال میں بہتری کے لیے سیاسی جذبے اور اداروں میں تعاون کا فقدان ہے

پاکستان کے وزیرِاعظم نواز شریف نے سندھ کے وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹیسٹ میچ نہ کھیلیں بلکہ ٹی ٹوئنٹی کھیل کر نتائج دیں۔

انھوں نے یہ مشورہ بدھ کو کراچی میں امن و امان کے اجلاس کی صدارت کے دوران دیا جس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وفاقی حکومت کراچی میں جاری ٹارگٹڈ آپریشن میں تیزی اور فوری نتائج چاہتی ہے۔

وزیراعظم کی گذشتہ آٹھ ماہ میں تمام سیاسی فریقین سے یہ دوسری ملاقات تھی جس میں ایک بار پھر تمام فریقین کی تجاویز اور تحفظات سنے گئے۔

متحدہ قومی موومنٹ شہر میں جاری آپریشن پر سب سے زیادہ تحفظات کا اظہار کرتی رہی ہے جس کو یہ بھی شکایت ہے کہ اس کے کارکنوں کی جبری گمشدگی اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات پیش آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ تنظیم کارکنوں کے خلاف تحفظِ پاکستان آرڈیننس کے استعمال کی بھی مذمت کرتی ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا ہے کہ انھوں نے وزیرِ اعظم کو تجویز پیش کی کہ تحفظِ پاکستان آرڈیننس کا اطلاق کالعدم تنظیموں پر کیا جائے اور جو دیگر پاکستانی ہیں جو کسی سیاسی جماعت کا حصہ ہیں ان پر اس کا اطلاق نہیں ہونا چاہیے، جس پر وزیرِاعظم نے کہا کہ وہ اس معاملے کو دیکھ سکتے ہیں۔

حیدر عباس رضوی کا کہنا تھا کہ انھیں صرف اجلاسوں سے اطمینان نہیں ہو سکتا ہے جب اس کے نتائج سامنے آئیں گے اس وقت ہی اندازہ ہوگا کہ وزیر اعظم نے جو کہا تھا اس پر کتنا عملدرآمد ہوا ہے۔

یاد رہے کہ وزیرِ اعظم میاں نواز شریف نے بدھ کو اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کراچی کے حالات کو مدِنظر رکھتے ہوئے تحفظِ پاکستان آرڈیننس جاری کیا گیا ہے جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی سندھ میں اس آرڈیننس کی حمایت اور وفاق میں مخالفت کرتی رہی ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر شاہی سید کا کہنا ہے کہ تمام سیاسی قوتوں کو فیصلہ سازی میں شریک رکھنا خوش آئند ہے، اس وقت تک جو آپریشن ہوا ہے وہ لیاری کی حد تک ہے، جہاں اب پہلے سے صورتحال بہتر ہے۔

شاہی سید کے مطابق ’اس وقت سارا گند ویسٹ میں ہے جہاں طالبان کے مجمعے لگے ہوئے ہیں اور وہ باقاعدہ فیصلہ کر بھی رہے ہیں جس کی انھوں نے نشاندہی بھی کی ہے اور انھیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔‘

کراچی سٹیزن پولیس لیاژان کمیٹی کے سابق سربراہ جمیل یوسف کا کہنا ہے کہ صورتحال میں بہتری کے لیے سیاسی جذبے اور اداروں میں تعاون کا فقدان ہے۔

بقول ان کے مقامی مافیا اور جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گرد آپس میں مل گئے ہیں اور جب اختیارات کی منتقلی ہوئی تو امن و امان کو صوبائی معاملہ قرار دیا گیا جو درست نہیں تھا۔

انھوں نے کہا کہ شہری جرائم الگ ، صوبائی اور ریاستی سطح پر واردارتیں الگ چیز ہے: ’مثال کے طور پر ایک اغوا کار کراچی میں بھی بات کر رہا ہے اور اسلام آباد میں بھی وہ ہی ملوث ہے کوئی وفاقی ادارہ ایسا ہونا چاہیے جو ان سب کڑیوں کو جوڑ کر کام کرے تاکہ نتیجہ خیز کارروائیاں ہوں۔‘

حالیہ اجلاس میں بھی وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف، ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر السلام اور کور کمانڈر کراچی بھی شریک تھے جو کہ ایک غیر معمولی بات ہے۔

جنرل راحیل شریف نے حکومت کو بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی اور پیشکش کی کہ وہ اسلحہ، تربیت اور انٹیلی جنس معلومات کی مد میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔

اس ساری صورتحال میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا کراچی میں امن کی بحالی کے لیے کیا فوج کی عملی شرکت کا بھی کوئی آپشن زیرِ غور ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما حیدر عباس رضوی کا کہنا ہے کہ اجلاس میں جو چیزیں سامنے آئی ہیں وہ کافی مثبت ہیں۔ ان کے مطابق دوران اجلاس بھی جسمانی حرکات و سکنات سے بھی کہیں ایسا محسوس نہیں ہوا کہ حکومت نے کچھ اس طرح کی چیز سوچ رکھی ہے جو کراچی کے شہریوں کے لیے ناموافق ہوگی۔

حیدر عباس رضوی کے مطابق ساری مثبت گفتگو ہوئی ہے اور جو باتیں کی گئی ہیں وہ کافی مناسب ہیں اگر ان پر عملدرآمد ہو تو صورتحال بہتر ہونے کے امکانات ہیں۔

عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر شاہی سید کہتے ہیں کہ یہ جو تاثر دیا جا رہا تھا کہ پولیس یا رینجرز زیادتی کر رہے ہیں تو اس اجلاس کا مقصد یہ پیغام دینا تھا کہ تمام ادارے اور سیاست دان ایک ساتھ ہیں: ’بعض اوقات جو لوگ پریس کانفرنس کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے اور ادارے غلط کر رہے ہیں اجلاس کا مقصد اس تاثر کو زائل کرنا تھا۔‘

اس اجلاس میں جماعت اسلامی نے سخت موقف اختیار کیا اور کراچی میں امن و امان کی بحالی دیگر اقدامات کے علاوہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی سبکدوشی سے بھی مشروط کی۔

جماعت اسلامی کے رہنما حافظ نعیم الرحمان کا کہنا ہے کہ ’کراچی میں وارداتوں میں ملوث ملزمان نامعلوم نہیں بلکہ معلوم ہیں۔ جو پیرول پر رہا ہوئے اور جن کے مقدمات این آر او کے تحت آگے پیچھے ہوئے، ان کے بارے میں سب کو معلوم ہے۔ اسی طرح 12 مئی کے واقعات میں ملوث ملزم بھی میڈیا میں سامنے آ چکے ہیں اگر انہیں گرفتار کیا جائے تو صورتحال کافی بہتر ہو سکتی ہے۔‘

اسی بارے میں