ایف آئی آر کوئی بڑی بات نہیں: رانا ثنا اللہ

Image caption صوبائی وزیر قانون کا خیال ہے کہ یہ مقدمہ تحقیقات کے دوران ہی خارج ہو جائے گا

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ ضلع جھنگ میں 68 وکلا کے خلاف توہینِ مذہب کی ایف آئی آر درج ہونا اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ پولیس کے مطابق یہ مقدمہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے بچنے کے لیے مجبوراً درج کرنا پڑا۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیرقانون رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ’یہ فرسٹ انفارمیشن (ابتدائی اطلاع) رپورٹ ہوتی ہے، ہم نے اس کو کچھ اور سمجھ لیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جس کے خلاف مقدمہ درج ہوا وہ ملزم نہیں مجرم ہے، اگر یہ مقدمہ درج ہوا ہے تو تحقیقات میں غلط ثابت ہو سکتا ہے۔‘

صوبائی وزیر قانون نے اس خیال کا اظہار بھی کیا کہ یہ مقدمہ تحقیقات کے دوران ہی خارج ہو جائے گا۔

جھنگ میں 68 وکلا کے خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ

یاد رہے کہ پیر کو پاکستان میں صوبہ پنجاب کے علاقے جھنگ میں 68 وکلا کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مدعی ارشد محمود نامی مقامی شخص کا الزام ہے کہ احتجاج میں مصروف وکلا نے عمر نام لے کر گالیاں دیں جو توہین مذہب ہے۔ وکلا کی جانب سے یہ احتجاج اپنے ایک ساتھی وکیل کی حراست کے خلاف کیا جا رہا تھا، جس کے دوران انھوں نے تھانے کے ایس ایچ او عمر دراز کے خلاف نعرے لگائے۔

68 وکلا کے خلاف بیک وقت توہین مذہب کا مقدمہ دائر کرنے کی کیا وجہ بنی؟

اس سوال کے جواب میں جھنگ کے ڈی پی او ذیشان اصغر بتاتے ہیں کہ پولیس نے اپنے طور پر بہت کوشش کی کہ معاملہ بات چیت سے حل ہو جائے اور مدعی ایف آئی آر نہ درج کروائے ۔

وہ کہتے ہیں کہ ضلع جھنگ کی صورتحال کے پس منظر میں ہمیں یہ قدم اٹھانا پڑا، اگر ایسا نہ کیا جاتا تو فرقہ وارانہ کشیدگی پھیل سکتی تھی۔

صوبہ پنجاب کے حکام تو اس معاملے کو اتنا سنجیدہ نہیں سمجھتے تاہم انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے پاکستان میں قانون کے استعمال پر جہاں تشویش کا اظہار کرتے ہیں وہیں صوبائی وزیر کے اس بیان پر حیران بھی ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی سربراہ زہرہ یوسف سمجھتی ہیں اس واقعے کی ایف آئی آر درج نہیں ہونی چاہیے تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب کسی کے خلاف توہین مذہب کی ایف آئی آر درج ہوتی ہے اس کی جان خطرے میں پڑ جاتی ہے ۔

’ماضی میں ایسے بہت سے کیسز ہو چکے ہیں جب کسی کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج ہوا تو لوگوں نے قانون ہاتھ میں لے کر ان پر حملے کیے۔‘

یہاں سوال یہ بھی ہے کہ کیا کسی کے خلاف ایف آئی آر درج کیا جانا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ 68 وکلا کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج ہوا اور دوسرا یہ کہ کیا ایف آئی آر کی حیثیت واقعی اتنی معمولی ہوتی ہے جتنی رانا ثنا اللہ نے بیان کی۔

سینیئر وکیل سلمان اکرم راجہ کہتے ہیں کہ 68 افراد کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج ہونا پاکستان کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، لگتا نہیں کہ یہ بات زیادہ آگے چلی گی لیکن اگر یہ مقدمہ خارج نہ کیا گیا تو پھر تشویش کی بات ہوگی ۔

وہ کہتے ہیں کہ ’محرر کو تھانے کے اعلیٰ افسر سے پوچھنا چاہیے تھا کہ میں ایف آئی آر درج کروں یا نہیں۔ اس معاملے میں سازش سے زیادہ بیوقوفی نظر آتی ہے، امید کی جانی چاہیے کہ وہ اسے خارج کر دیں گے، لیکن ایسا نہ ہونا باعث تشویش ہوگا۔‘

دوسری جانب قانونی امور کے ماہر جسٹس (ر) طارق محمود دیگر ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بہت سے ممالک میں پولیس پہلے تحقیقات کرتی ہے اور پھر کسی کے خلاف مقدمہ درج کرتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں الٹا حساب ہے، کسی پر قتل کا الزام ہو تو ایف آئی آر درج ہونے کے بعد وہ گرفتار ہو جاتا ہے اور پھر پولیس تفتیش کرتی ہے کہ آیا وہ مجرم ہے یا نہیں۔

جسٹس (ر) طارق محمود کہتے ہیں کہ ’مقدمہ درج ہو جانے کے بعد گیند پولیس کی کورٹ میں چلی جاتی ہے اور پولیس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ تحقیقاتی رپورٹ تیار کرنے کے بعد مقدمہ خارج کر دے یا اسے متعلقہ مجسٹریٹ کے پاس لے کر جائے۔‘

ان کا کہنا ہے کہ کسی کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کروانے والے کو بھی سزا دی جا سکتی ہے۔

ہیومن رائٹس کمشن آف پاکستان کے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبہ پنجاب میں سب سے زیادہ توہین مذہب کے مقدمات درج ہوتے ہیں۔

اسی بارے میں