بنوں میں پولیس پر حملہ، آٹھ افراد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کردیا گیا ہے جہاں پولیس اے ایس آئی کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں پولیس موبائل پر ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں کم سے کم تین پولیس اہلکاروں سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں شامل ایک پولیس افسر کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ جمعے کی صبح بنوں شہر میں ریلوے روڈ پر عامر بیکری کے قریب پیش آیا۔ بنوں پولیس سربراہ کے دفتر کے ایک اہلکار بختیار نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کی ایک وین معمول کے گشت پر تھی کہ اس دوران سڑک کے کنارے نصب ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کا نشانہ بن گئی۔

انھوں نے کہا کہ دھماکہ خیز مواد سڑک کے کنارے کھڑی موٹر سائیکل میں نصب کیا گیا تھا اور جونھی پولیس کی گاڑی وہاں سے گزری تو زوردار دھماکہ ہو گیا۔ اہلکار کے مطابق دھماکے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں تین پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ دیگر زخمی افراد میں راہگیر شامل ہیں۔ دھماکے میں گاڑی تباہ ہوگئی ہے۔

زخمیوں کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال بنوں منتقل کردیا گیا ہے، جہاں پولیس اے ایس آئی کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ دھماکے میں پانچ کلو دیسی ساخت کا بارود استعمال کیا گیا ہے۔

ابھی تک کسی تنظیم کی طرف سے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ بنوں میں اس سے پہلے بھی متعدد مرتبہ دہشت گردی کے واقعات میں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاچکا ہے جن میں بھاری جانی و مالی نقصانات ہوئے ہیں۔

قبائلی علاقے سے متصل ہونے کی وجہ سے بنوں کے کچھ علاقے انتہائی حساس سمجھے جاتے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے حالیہ چند کارروائیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں مکینوں نے بے گھر ہو کر بنوں اور آس پاس کے علاقوں پناہ لے رکھی ہے۔

اسی بارے میں