جنسی تعلق کا الزام، تین بہنیں قتل

احتجاج تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عورت فاؤنڈیشن کے زیت اہتمام خواتین نام نہاد عزت کے نام پر عورتوں کے قتل کیے جانے کے خلاف احتجاج کرتی رہتی ہیں اور قوانین کو تبدیل کرنے کا مطالبے کرتی ہیں۔

صوبہ پنجاب کے شہر راجن پور کے نواحی علاقے میں ایک ہی خاندان کی تین خواتین کو قتل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ شواہد کے مطابق لگتا ہے کہ قتل کاروکاری کے نام پر کیے گیے ہیں۔ پولیس کے مطابق بیوی، بھابی اور بہن کو قتل کرنے والے ملزم فرار ہیں۔

راجن پور کے ڈی ایس پی خالد مسعود نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ علاقہ کوڑلے اندون میں تین خواتین کو غیر قانونی جنسی تعلقات کے الزام میں گولی مار کر ہلاک گیا۔

دو خواتین ایک ہی گھر میں رہتی تھیں جب کہ ایک پڑوسن تھی مگر گولیاں ایک ہی وقت چلائی گئیں۔ گولیوں کی آواز تمام گاؤں والوں نے سنی جس کے بعد پولیس کو آگاہ کیا گیا۔

ڈی ایس پی خالد مسعود کے مطابق ملزمان اور ہلاک ہونے والی خواتین آپس میں کزن تھے۔ پولیس کے مطابق خواتین کی عمریں بیس سے تیس کے درمیان جب کہ ملزمان کی پچیس سے تیس کےدرمیان ہیں۔

لاشوں کو دیہی ہیلتھ مرکز پہنچا دیا گیا ہے۔ مجرموں کے فرار ہونے کے بعد پولیس نے چھاپے مار کر خاندان کے بارہ مرد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

کسی کو بھی ان گھروں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی جن میں قتل ہوئے ہیں۔

علاقے کے ڈی پی آو محمود گوندل سے رابطہ کی کئی کوشش کی گئیں مگر انھوں نے فون نہیں اٹھایا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم فرار ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے خاندان کے لوگ واقع کے بارے میں کچھ زیادہ تفصیلات نہیں بتا رہے۔

پولیس نے تینوں ملزموں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا تاہم تحقیقات کے بعد بتایا جائے گا کہ یہ کاروکاری کا واقع ہے یا نہیں۔

اسی بارے میں