جنگ، جیو کی ’غیر ملکی فنڈنگ‘ کی تحقیقات کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کبھی جیو گروپ پر پابندی لگانے کا مطالبہ نہیں کیا ہے: عمران خان

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت جنگ اور جیوگروپ کی غیر ملکی فنڈنگ اور تمام اثاثوں کی تحقیقات کرکے عوام کے سامنے پیش کرے۔

سنیچر کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران عمران خان نے مطالبہ کیا کہ کہ میر شکیل الرحمٰن اوراس کےگروپ کے تمام قرضوں، ٹیکس کی عدم ادائیگی اور اثاثوں کی تحقیقات کی جائیں۔

عمران خان نے الزام عائد کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران جیو گروپ کو امریکہ اور برطانیہ سے باقاعدہ فنڈنگ ہوئی ہے۔

انھوں نے بعض دستاویزات صحافیوں کو دکھاتے ہوئے کہا کہ میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر برطانیہ سے 69 لاکھ پاؤنڈ دیےگئے ہیں۔

جنگ اور جیو گروپ نے غیر ملکی فنڈنگ کے حوالے سے الزامات کوہمیشہ مسترد کیا ہے۔

جنگ اور جیو گروپ کا موقف رہا ہے کہ اگر غیر ممالک سے فنڈنگ لینے کے الزامات ثابت ہو جائیں تو وہ خود ہی اپنا چینل بند کر دیں گے۔ جنگ اور جیو کا موقف ہے کہ عمران خان کو ان الزامات کو عدالتی فورم پر لے جانا چاہیے تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔

عمران خان نے کہا کہ جنگ گروپ کے مالک میر شکیل الرحمٰن خود دبئی کے ایک عالی شان بنگلے میں بیٹھے کاروباری مفادات کا تحفظ کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں لوگوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ جو کوئی جنگ اور جیو کے بارے میں بات کرے اسے میڈیا کے ذریعے بلیک میل کیا جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ جنگ گروپ نہ صرف مختلف بنکوں کا ساڑھے چارارب روپےمقروض ہے بلکہ ان پر کئی ارب روپے کا ٹیکس واجب الادا ہے۔

عمران خان کے مطابق سال دو ہزار دس میں جنگ گروپ نے ایک ارب 80 کروڑ روپے کا قرضہ نیشنل بنک کو واپس کرنا تھا جس کی ادائیگی ابھی تک نہیں کی گئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پیمرا کے سابق چیئرمین چوہدری رشید نے سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا تھا کہ پیمرا کسی گروپ کو چار سے زیادہ لائسنس جاری نہیں کر سکتا لیکن جیو کو پانچ لائسنس جاری ہو چکے ہیں۔

انھوں نے جیوگروپ کے اضافی لائسنسز کی فوری طور پر منسوخی کا مطالبہ کیاآ

انھوں نے الزام لگایا کہ میر شکیل الرحمٰن نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے ذریعے پیمرا کے چیئرمین کو نوکری سے نکلوایا۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جس دن حامد میر پرحملہ ہوا اس کے بعد مسلسل آٹھ گھنٹے تک جس انداز میں جیو ٹی وی نے آئی ایس آئی کے سربراہ کی تصاویر دکھا کر خبر نشر کی اس کا بنیادی مقصد پاکستانی فوج پرحملہ تھا۔

تحریک انصاف کے سربراہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نہ صرف جیوگروپ کے نجم سیٹھی کو پاکستان کرکٹ کنٹرول بورڈ کا سربراہ لگایا بلکہ پاکستان ٹیلی ویژن سپورٹس کے مقابلے میں جیوسپورٹس کو کرکٹ رائٹس خریدنے کی اجازت دی۔

انھوں نے کہا کہ فوج اور آئی ایس آئی پرحملوں کے بعد جنگ گروپ نے ان کی ذاتی زندگی کونشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ اگر وہ اپنی صفائی پیش کریں تواسے آزادی صحافت کے خلاف اقدام قراردیا جاتا ہے۔

عمران خان نے مطالبہ کیا کہ شکیل الرحمٰن اوراس کےگروپ کے تمام قرضوں، ٹیکس کی عدم ادائیگی اور اثاثوں کی تحقیقات کرکے قوم کے سامنے پیش کیا جائے۔

عمران خان نے کہا کہ انھوں نے کبھی جیو گروپ پر پابندی لگانے کا مطالبہ نہیں کیا ہے لیکن پیمرا اپنے قوانین پرعملدآمد کو یقینی بنائے تاکہ مستقبل میں ایسے پروگرام نشر ہوں جنہیں خاندان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جا سکے۔

اسی بارے میں