حکومت، فوج کو خدا کی رٹ تسلیم کرنا ہوگی:فضل اللہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نفاذِ شریعت کے لیے جدوجہد جاری رہے گی: فضل اللہ

کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ نے کہا ہے کہ طالبان کی طرح حکومت پاکستان اور فوج کو بھی اللہ کے نظام اور عملداری کو تسلیم کرنا پڑے گا۔

انھوں نے یہ بات تحریک طالبان درہ آدم خیل کی طرف سے جاری کی گئی ایک مختصر ویڈیو میں کہی ہے۔

ملا فضل اللہ حکومت سے امن مذاکرات کے آغاز سے ہی مخالف رہے ہیں اور ان کا یہ پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حکومت اور طالبان کے درمیان بات چیت کا عمل تعطل کا شکار ہے۔

تاہم اس ویڈیو میں حکومت اور طالبان کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے کچھ نہیں کہا گیا ہے۔

طالبان کے نشر و اشاعت کے ادارے کی اس ویڈیو کو سماجی رابطے کے ویب سائٹ فیس بک پر بھی جاری کیا گیا ہے۔

تحریک طالبان درہ آدم خیل کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ فضل اللہ کی طرف سے جاری کیا گیا ان کا یہ تازہ پالیسی بیان ہے۔

تقریباً ساڑھے سات منٹ پر مشتمل اس ویڈیو میں طالبان کے سربراہ کو ایک پہاڑی علاقے میں آتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں بھاری ہتھیاروں سے لیس جنگجو ان کا استقبال کرتے ہیں۔

اس کے بعد فضل اللہ شدت پسندوں سے مختصر خطاب میں کہتے ہیں کہ جس طرح طالبان نے اللہ تعالی کی عملداری کو تسلیم کیا ہوا ہے ایسے ہی حکومت پاکستان، فوج اور خفیہ اداروں کو بھی خدا کی رٹ کو تسلیم کرنا ہوگا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’تمام فدائین (خودکش حملہ آور) طاغوتی طاقتوں کے ٹینکوں اور توپوں کا مقابلہ کرنے کےلیے تیار رہیں۔‘ اور جن خودکش حملہ آوروں تک ان کا یہ پیغام پہنچا ہے وہ ان دیگر حملہ آوروں کو بھی بتا دے جو کسی وجہ سے رابطے میں نہیں۔

طالبان سربراہ نے کہا کہ شریعت کا نفاذ ان کا مشن ہے جس کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ تحریک طالبان پاکستان نے حکومت کے ساتھ چالیس روز تک جنگ بندی کے بعد اس میں مزید توسیع نہ کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم اس کے باوجود ملک میں سکیورٹی کی صورتحال قدرے بہتر بتائی جاتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور شدت پسندوں کے مابین خفیہ طور پر رابطے بحال ہیں تاہم باقاعدہ مذاکرات کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوسکا ہے۔

اسی بارے میں