’میڈیا کی سینسر شپ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کسی بھی صورت میڈیا کی آزادی پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی:عرفان صدیقی

حکومت ِ پاکستان کی جانب سے میڈیا کے حوالے سے قائم کردہ کمیٹی کے سربراہ عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ حکومت کا پاکستانی میڈیا کی سینسر شپ کا کوئی ارادہ نہیں ہے تاہم کوشش کر رہے ہیں کہ میڈیا کی ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کیا جائے۔

ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی کے خلاف توہین مذہب کے الزام پر مبنی ایک درخواست پر متعلقہ افراد کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم پاکستان کے مشیر نے پاکستانی میڈیا کی موجودہ صورتحال کو افسوسناک قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کا معاملہ خبر بننے تک نہیں رہا بلکہ تہذیب کے قرینوں کی خلاف ورزی ہو رہی ہے اور ایک دوسرے کے گریبان نوچے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میڈیاکی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے وزیراعظم نے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی تھی اور 10سے 15 روز میں اس کمیٹی نے بہت سا کام کر لیا ہے۔

عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے ایک ہفتے کے اندر الیکٹرانک میڈیا کے ادارے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن، آل پاکستان نیوز پیپر ایسوسی ایشن اور سی پی این ای کے حکام سے ملاقات کی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’میڈیا پر پابندی اور سینسر شپ کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستان میں میڈیا بہرحال اس مقام تک آچکا ہے جہاں سینسر شپ کا نہ کوئی خیال اور نہ ہی تصور ہے۔‘

عرفان صدیقی نے کہا کہ حکومت سمجھتی ہے کہ جمہوری تسلسل اور آئین کی پاسداری کے لیے آزاد لیکن اس کے ساتھ ساتھ ذمہ دار میڈیا ضروری ہے: ’ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ اس ذمہ داری کے احساس کو اجاگر کیا جائے، باور کرایا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ ایک طریقہ کار لایا جائے لیکن کسی بھی صورت میڈیا کی آزادی پر آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔‘

وزیراعظم کے مشیر نے یہ باتیں ایسے موقع پر کی ہیں جب ملک کے دو بڑے نیوز چینلز میں سے ایک کے مالک خلاف توہینِ مذہب کا مقدمہ درج ہو چکا ہے جبکہ دوسرے کی انتظامیہ کو اسی قسم کی ایک درخواست پر نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اتوار کو جیو چینل کے مالک میر شکیل الرحمان اور اینکر پرسن شائستہ لودھی سمیت 4 افراد کے خلاف توہینِ مذہب کی دفعات کے تحت مقدمے کے اندراج کے بعد پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے اے آر وائی کے خلاف توہین مذہب کے الزام پر مبنی درخواست پر ٹی وی کی انتظامیہ اور دیگر افراد کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

عدالت عالیہ کے جج نورالحق قریشی نے یہ نوٹس لال مسجد شہدا فاونڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے ان افراد کو دو ہفتوں میں جواب داخل کرانے کا حکم دیا ہے۔

اس درخواست میں وزارت اطلاعات کے سیکرٹری، چیئرمین پیمرا، چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل، چیف ایگزیکٹیو اے آر وائی، مبشر لقمان، ندا یاسر، قوال امجد صابری اور اس قوالی کے شاعر عقیل محسن نقوی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گُزار کے وکیل طارق اسد نے عدالت کو بتایا کہ نومبر سنہ 2013 میں اے آر وائی پر مارننگ شو میں ایک پروگرام نشر ہوا تھا جس کی میزبان ندا یاسر تھیں اور اُس میں بھی وہی قوالی اُسی طرح پیش کی گئی تھی جس طرح چودہ مئی کو جیو کے پروگرام میں نشر ہوئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ سنہ 2013 میں جب اے آر وائی پر جب یہ پروگرام نشر کیا گیا تھا تو اُس وقت پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیرٹری اتھارٹی یعنی پیمرا نے اس کا نوٹس کیوں نہیں لیا۔

درخواست میں اس بات کا بھی ذکر ہے کہ جیو پر متنازع پروگرام نشر ہونے کے بعد جس طرح چینل کو بند کیا گیا ہے وہ غیر قانونی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ پیمرا نے اس ضمن میں جو اقدامات کیے ہیں وہ غیر قانونی ہیں۔

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جس شاعر نے ایسی قوالی لکھی ہے جسں سے توہین مذہب کا پہلو نکلتا ہو اور جس نے یہ قوالی گائی ہے اُس کے خلاف بھی توہین مذہب کا مقدمہ اسلامی نظریاتی کونسل سے رائے لے کر درج کیا جائے۔

طارق اسد نے بی بی سی کو بتایا کہ ضلعی عدالتوں کی طرف سے اس حساس معاملے پر توہین مذہب کا مقدمہ درج کروانے کے احکامات اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے کے مترادف ہیں۔

اُنہوں نے کسی حساس ادارے کا نام لیے بغیر کہا کہ ’ضلعی عدلیہ بھی اُن کے دباؤ میں ہے جنہوں نے ملک میں مظاہرے شروع کروا رکھے ہیں۔‘

دوسری طرف نجی ٹی وی چینلز کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد صحافیوں کی مرکزی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے صحافتی ضابطۂ اخلاق پر عملدرآمد کروانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔

یہ کمیٹی سینیئر صحافیوں پر مشتمل ہوگی جو مختلف نجی ٹی وی چینلز پر کام کرنے والے صحافیوں سے ملاقاتیں کریں گے اور اُنھیں ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی نہ کرنے اور ضابطۂ اخلاق پر عمل درامد کروانے کی یقین دہانی لے گی۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے رہنما افضل بٹ کا کہنا ہے کہ کمیٹی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں کریں گی تاکہ اُنھیں صحافیوں کے خلاف کفر اور غداری کے فتوے دینے سے روکا جا سکے۔

اسی بارے میں