’موجودہ تنازعات میں حکومت اپنا کردار ادا کرنے میں ناکام رہی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رضا ربانی اٹھارہویں ترامیم کے خالقوں میں سے ہیں۔

پاکستان میں سینیٹ یعنی ایوان بالا میں حزب اختلاف پاکستان پیپلز پارٹی کے ارکان نے کہا ہے کہ ملک میں جس طرح انارکی کی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے اس سے جہوریت اور پارلیمنٹ دونوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

ڈپٹی سپیکر صابر بلوچ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی اورعوامی نیشنل پارٹی کے ارکان نے ایک مشترکہ تحریک پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ ملک میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال پر بحث کی جائے۔

سینیٹر میاں رضا ربانی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ذاتی اختلافات بھلا کر وفاق کو بچانے کے لیے ایک پلیٹ فارم پر محتد ہو جائیں۔

انھوں نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور طاہرالقادری کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کے ایک سال بعد دھاندلی کے الزامات اور انتخابی کمیشن پراعتراضات شروع ہوگئے ہیں تاکہ عوام میں انتخابات سے متعلق شک وشبہات پیدا کیے جاسکیں۔

اس کے علاوہ عدلیہ کی کردار کشی اور سب سے بڑھ کر میڈیا پر پابندی لگانے کی مہم جاری ہے جو کہ کسی صورت میں مناسب نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ بعض قوتوں کی جانب سے ملک میں صدارتی اور امیرالمومین کا نظام لانے کے مطالبات بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں جوکہ جمہوریت اور فیڈریشن کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں۔

رضاء ربانی نے کہا کہ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے جبکہ سندھ اور خیبر پختونخوا مذہبی دہشت گردی کا شکار ہے۔

انھوں نے کہا کہ اسلام کو ایک سازش کے تحت دہشت گردی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ جبکہ فوج اس وقت تک ان ملک دشمنوں کا مقابلہ نہیں کرسکتی ہے جب تک عوام اور سیاسی جماعتیں ساتھ نہ دیں۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے لیے لوگوں نے قربانیاں دی ہیں، یہ ہی وجہ تھی ایک سویلین حکومت نے دوسری منتخب حکومت کو تاریخ میں پہلی بار اختیارات منتقل کیے۔ لیکن اب ایک بار پھر ڈکیٹرشپ لانے کے لیے بعض قوتیں سرگرم عمل ہوگئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس نظام سے سب سے زیادہ چھوٹے صوبے متاثر ہونگے کیونکہ بڑی جد وجہد کے بعد اٹھارہویں ترمیم کی صورت میں ملنے والے تمام اختیارات واپس مرکز کو منتقل ہو جائیں گے۔

سینیٹر سیعد غنی نے کہا کہ صحافی حامد میر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد جیوٹی وی نے جس انداز میں آئی ایس آئی کے سربراہ کے خلاف پروپیگنڈہ کیا تھا ملک کی تمام سیاسی جماعتوں نےجیو ٹی وی کے اس عمل پر تنقید کی اور مطالبہ کیا کہ ملوث افراد کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔

اس کے بعد جیوٹی وی کے مارننگ شو اٹھوجاگو پاکستان پروگرام میں توہین اہلبیت کی جو ایک غلطی ہوئی اس پر جیوٹی وی کی انتظامیہ نے نہ صرف معافی مانگ لی ہے بلکہ پروگرام کی پوری ٹیم کو برطرف کر کے اس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

اس پر کالعدم اور بعض مذہبی جماعتوں نے جس طرح سڑکوں پر احتجاج شروع کر رکھا ہے اور ملک کے مختلف علاقوں میں جیو کے خلاف توہین اہلیبت کے تیس سے چالیس مقدمے درج ہوچکے ہیں اس صورتحال میں جیو ٹی وی کے کارکنوں بالخصوص مذکورہ پروگرام کی پوری ٹیم کو مسلسل جانوں کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔

انھوں نے مسلم لیگ (ن) کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگرحامد میر پر ہونے والے حملے کے بعد فوری طور پر جیوٹی وی اور آئی ایس آئی کے درمیان اپنا کردار ادا کرتی تو آج ملک اس صورتحال سے دوچار نہ ہوتا۔

سید غنی نے کہا کہ جیوٹی وی نےروز اول سے پیپلز پارٹی کی حکومت کی مخالفت شروع کر رکھی تھی۔

سابق صدر آصف علی زرداری کے تمسخرے اڑانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی کیونکہ اس وقت تحریک انصاف کو جیوگروپ اور سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سرپرستی حاصل تھی۔

جیو گروپ اورسابق چیف جسٹس نے انتخابات میں پیپلزپارٹی اوراتحادیوں کو نقصان پہنچایا لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی جیو سمیت کسی بھی چینل کے بند کرنے کے مطالبے کی کسی صورت میں حمایت نہیں کریں گے بلکہ قانون کے مطابق ان سے باز پرس کی ضرورت پر زور دیں گے۔

سابق صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا کہ حامد میر پر ہونے والے حملے کے بعد جیوٹی وی نے آئی ایس آئی پر جو الزام لگایا اس سے قبل اس طرح کے الزامات آئی ایس آئی پر لاپتہ افراد کے مقدمے میں سپریم کورٹ میں لگ چکے تھے لیکن جیوٹی وی نے عجلت میں اور بغیر کسی تصدیق کے جو الزامات لگائے وہ غلط تھے۔

توہین اہلبیت کا ذکر کرتے ہوئے فرحت اللہ بابر نے کہا کہ اگر کسی سے غیرارادی طور پر کوئی غلطی سرزد ہو جائے تو اس سے معاف کر دینا چاہیے۔

تاہم آج کل میڈیا کوجس طرح گروپوں میں تقسیم کر دیا گیا وہ ایک خطرناک عمل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرملک میں میڈیا کوکمزور کردیا گیا تو پھر سب سے زیادہ خطرہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کو لاحق ہوجائےگا۔

اس موقع پر قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے کہا کہ اگر جیوٹی وی بند ہوگیا تو پھرسب کی زبان بند ہو جائےگی۔ انھوں نے ماضی میں جیوٹی وی کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جو چھوٹے چھوٹے اینکر (فرعون) بنے ہوئے ہیں وہ بھی جیو پر پابندی کے بعد مکمل خاموش ہوجائیں گے۔

اسی بارے میں