میرپورخاص: توہین مذہب کے مقدمے میں چار افراد گرفتار

Image caption ایف آئی آر کے مطابق حافظ شاہ محمد نے تین خواتین سمیت چار افراد کو مذہبی مواد تقسیم کرتے ہوئے دیکھا جس میں انبیاء کی توہین کی گئی ہے

صوبہ سندھ کے شہر میرپورخاص میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ میاں بیوی سمیت چار افراد پر مذہب اور انبیا کی توہین کے مقدمے میں گرفتار کر کے انھیں حیدرآباد جیل بھیج دیا گیا ہے۔

میرپور خاص کے ریلوے سٹیشن تھانے کے ہیڈ محرر محمد جلال نے بی بی سی کو بتایا کہ ریلوے کے الیکٹریشن حافظ شاہ فہد نے یہ مقدمہ درج کرایا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق حافظ شاہ محمد نے تین خواتین سمیت چار افراد کو مذہبی مواد تقسیم کرتے ہوئے دیکھا جس میں انبیا کی توہین کی گئی ہے۔

ریلوے سٹیشن کے ہیڈ محرر محمد جلال نے بتایا کہ چاروں کے خلاف دفعہ 298 اے پی پی سی اور 34 پی پی سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ہیڈ محرر کے مطابق انھوں نے ان متنازع کتابوں کا ایک کارٹن بھی ضبط کیا ہے جن میں بعض میں حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ کی تصاویر بھی شائع ہیں۔

اس واقعے کی اطلاع پر بڑی تعداد میں مذہبی جماعتوں کے کارکن جمع ہوگئے، جنھوں نے شدید نعرے بازی کی۔ صورتحال کشیدہ ہونے پر ریلوے پولیس نے مدد کے لیے ضلعی پولیس طلب کی۔

اے ایس پی میرپورخاص آصف اعوان کا کہنا ہے کہ مبینہ ملزمان کو سکیورٹی میں حیدرآباد منتقل کیا گیا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ریلوے پولیس وفاق کے زیر انتظام ہے اور اس مقدمے کی تفتیش بھی وہی کریں گے اور ان کا اس سے کوئی واسطہ نہیں۔

اس مقدمے کے مدعی حافظ شاہ فہد نے دعویٰ کیا کہ ان کتابوں میں خدا، حضرت عیسیٰ ، حضرت موسیٰ اور حضرت ایوب کی شبیہ بنائی گئی ہیں اور توہین آمیز باتیں لکھی گئی ہیں۔

ریلوے پولیس نے چاروں گرفتار افراد کا میرپورخاص کی مقامی عدالت سے چھ روز کا جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کر لیا ہے۔

یاد رہے کہ جن کتابوں کے باعث مقدمہ درج کرایا گیا ہے انھیں عیسائی مشنری تنظیمیں تبلیغ کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں۔

ریلوے پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار میاں بیوی سمیت تین افراد کا تعلق حیدرآباد اور ایک کا تعلق کراچی سے ہے۔

اسی بارے میں