گورنر کا مہمند ایجنسی کے بازار کا دورہ

Image caption مہتاب عباسی نے اپنے دورے کے دوران بازار میں عام لوگوں سے بھی بات چیت کی

پاکستان کے قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں تقریباً دو سال پہلے ہونے والےفوجی آپریشن کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کو زیادہ تر علاقوں پر کنٹرول حاصل ہوچکا ہے تاہم علاقے میں طالبان کا خوف ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوا ہے۔

آٹھ تحصیلوں اور تین سب ڈویژن پر مشتمل مہمند ایجنسی کے بیشتر مقامات سے شدت پسندوں کا خاتمہ ہوچکا ہے جس سے علاقے میں لوگوں کا اعتماد تیزی سے بحال ہوتا جارہا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ ایجنسی میں وقفوں وقفوں سے سکیورٹی فورسز پر حملے بھی ہو رہے ہیں لیکن اس کی شدت پہلے کے مقابلے بہت کم بتائی جاتی ہے۔

گورنر خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان کی خصوصی دعوت پر منگل کی صبح پشاور سے مہمند ایجنسی کے لیے سڑک کے راستے صحافیوں کی ایک ٹیم کے ہمراہ روانہ ہوئے تو قبائلی علاقے کی حدود شروع ہونے پر ہی اندازہ ہوا کے علاقے میں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے ہیں۔

یکہ غونڈ چیک پوسٹ سے لے کر مہمند ایجنسی کے ہیڈکوارٹر غلنئی تک جگہ جگہ پر سڑک کے کنارے خاصہ دار اور مہمند سکاوٹس کے جوان چوکس دکھائی دیئے۔ علاقے کی اہم شاہراہ مہمند باجوڑ سڑک پر گاڑیوں کی آمد و رفت پہلے کے مقابلے میں کافی حد تک بہتر نظر آئی۔ ایک سال پہلے باجوڑ جاتے ہوئے اس شاہراہ پر گاڑیوں کا اس قسم کا رش اور چہل پہل محسوس نہیں ہوئی تھی جس طرح آج دیکھنے کو ملا۔

Image caption گورنر کے خطاب کے دوران مشران کی بڑی تعداد موجود تھی

اس علاقے میں مہمند باجوڑ شاہراہ کو اس لیے بھی اہمیت حاصل ہے کیونکہ افغانستان جانے کےلیے بھی اسی سڑک کو استعمال کیاجاتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تجارت بھی اس شاہراہ سے ہوتی آئی ہے تاہم مہمند اور باجوڑ ایجنسیوں میں امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث پڑوسی ملک آمد و رفت معطل ہے۔

ایجنسی کے صدر مقام غلنئی میں پولیٹکل انتظامیہ اور دیگر اہم اداروں کے دفاتر ایک چار دیواری کے اندر محدود کیے گئے ہیں جہاں مقامی لوگوں کو اندر جانے میں متعدد چیک پوسٹوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ ہیلی پیڈ تک جانے میں ہمیں کئی مستقل طور پر بنے ہوئے دروازوں سے گزرنا پڑا۔

اسی کی بظاہر وجہ تقریباً ساڑھے تین سال قبل اسی غلنئی ہیڈ کوارٹر میں پولیٹکل انتظامیہ کے دفاتر کے قریب قبائلی جرگے پر ہونے والے دو خودکش حملے ہیں جس میں پچاس کے قریب افراد ہلاک ہوئے تھے۔ آج بھی اس مقام پر ایک قبائلی جرگہ جمع تھا جسے سے گورنر سردار مہتاب احمد خان نے خطاب کرنا تھا تاہم وہاں اس قسم کا کوئی خوف یا بد نظمی نظرنہیں آئی۔

جرگے سے قبائلی سرداروں اور مشران نے بھی خطاب کیا۔ بعض قبائلی سرداروں نے کھل کر طالبان کی مخالفت کی اور انھیں ملک دشمن اور علاقے کی تباہی کا ذمہ دار قرار دیا۔

قبائلی مشران کی شعلہ بیان تقریروں سے ظاہر ہو رہا تھا کہ نہ صرف علاقے میں طالبان کے اثر رسوخ میں کافی حد تک کمی آئی ہے بلکہ شاید مقامی آبادی میں ان کی حمایت بھی کم ہوئی ہے۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ مشران نے تقریر کرتے ہوئے احتیاط سے بھی کام لیا اور شدت پسندی کی بجائے دیگر مسائل پر بولتے رہے جس سے یہ اندازہ بھی مشکل نہیں تھا کہ علاقے میں طالبان کا خوف بدستور پایا جاتا ہے۔

Image caption بعض مشران نے اپنی تقریروں میں محتاط رویے اپنائے رکھا

جرگہ کےاختتام پر گورنر سردار مہتاب احمد خان سکیورٹی اور مقامی افسران کے ہمراہ اچانک ایجنسی ہیڈ کوارٹر کی چار دیواری سے نکل کر غلنئی بازار کی طرف گئے۔ یہ امر بازار میں موجود لوگوں اور ہم صحافیوں کے لیے نہ صرف دلچسپ تھا بلکہ کچھ دیر کے لیے خوف زدگی کا باعث بھی بنا کیونکہ سامنے پہاڑ اور قبائلی علاقے کے بازار میں گورنر کا کھلے عام پھیرنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔

بازار میں موجود افراد نے بھی اچانک گورنر کو اپنے درمیان پا کر خوف زدہ سے بھی ہوئے تاہم سردار مہتاب جب فرداً فردا ً لوگوں سے ملتے رہے اور ان کے مسائل معلوم کرتے رہے تو پھر تھوڑی دیر کے بعد وہاں لوگوں کا جم غفیر بھی اکھٹا ہوا۔

مقامی صحافیوں نے بتایا کہ جب سے علاقے میں سکیورٹی کی صورتحال خراب ہوئی ہے اس کے بعد سے کسی گورنر نے بازار کا اس طرح دورہ نہیں کیا۔

مہمند ایجنسی میں تین سال پہلے تک بیشتر علاقوں پر تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے سربراہ عمر خالد خراسانی کے جنگجوؤں کو کنٹرول حاصل تھا اور پولیٹکل انتظامیہ کی عمل داری صرف غلنئی اور آس پاس کے علاقوں تک محدود تھی۔ مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ ان دنوں دن کے وقت بھی لوگ نقل و حرکت نہیں کرسکتے تھے جب کہ شام سے پہلے پہلے مقامی باشندے گھروں میں محصور ہوا کرتے تھے۔

Image caption علاقے میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے

تاہم دو ہزار گیارہ میں ہونے والے آپریشن سے طالبان کی کمر ٹوٹ گئی اور انھیں ایجنسی سے بے دخل کر دیاگیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے بعد سے تحریک طالبان مہمند ایجنسی کے سربراہ عمر خالد خراسانی سمیت بیشتر اہم کمانڈروں نے سرحد پار کنڑ اور نورستان کے علاقوں میں پناہ لے رکھی ہے۔

مقامی سکیورٹی اہلکاروں کے مطابق اب ایجنسی میں ایسا کوئی علاقہ نہیں جہاں طالبان کا کوئی ٹھکانہ یا مرکز موجود ہو۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ کبھی کھبار عسکریت پسند اپنے ہمدردوں کی مدد سے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کرنےکی کوشش کرتے ہیں تاہم ایجنسی کے کسی علاقے میں ان کی موجودگی نہیں پائی جاتی اور نہ سرحد پار سے اندر آنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔

اسی بارے میں