پنجگور: دھمکیوں کے بعد نجی سکول بند

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption نجی سکولوں کو دھمکی ایک غیر معروف تنظیم الفرقان الاسلامی کے نام سے دی گئی تھی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ایران سے متصل ضلع پنجگور میں گذشتہ آٹھ روز سے 30 سے زائد نجی سکول بند ہیں۔

پنجگور میں نجی سکولوں کی بندش کے باعث ہزاروں طلباء اور طالبات کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔

نجی سکولوں کو دھمکی ایک غیر معروف تنظیم الفرقان الاسلامی کے نام سے دی گئی تھی۔ تنظیم کے نام سے بھیجے جانے والے خط میں پرائیویٹ سکولوں کو کہا گیا ہے کہ وہ لڑکیوں کو نہ پڑھائیں۔

اس خط میں جہاں والدین سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کو سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں وہاں ٹیکسی ڈرائیوروں کو بھی یہ دھمکی دی گئی ہے کہ وہ طالبات کو پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں لانے اور لے جانے سے گریز کریں۔

واضح رہے کہ نجی سکولوں کو پہلی مرتبہ دھمکی 25 اپریل کو ملی تھی جس کے بعد کچھ دنوں کے لیے سکول بند کر دیے گئے تھے۔تاہم ضلع پنجگور کی انتظامیہ کی یقین دہانی پر یہ دوبارہ کھل گئے تھے۔

تاہم آٹھ روز قبل ایک نجی سکول کی گاڑی کو جلانے اور بعض سکولوں پر حملوں کے بعد سے یہ پرائیویٹ سکول ایک پھر بند ہوگئے ہیں۔

ایک پرائیویٹ سکول کے مالک حاجی عبدالطیف کا کہنا ہے کہ پنجگور کے نجی سکولوں میں 15 سے 20 ہزار طلبہ و طالبات تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

پرائیویٹ سکولوں کو ملنے والی دھمکیوں کے خلاف پیر کے روز شہر میں ایک بڑی احتجاجی ریلی نکالی گئی تھی۔

واضح رہے کہ پنجگور انتظامی طور پر بلوچستان کے مکران ڈویژن کا حصہ ہے جو کہ اس وقت نہ صرف شورش سے زیادہ متاثر ہے بلکہ بلوچ قوم پرستی کی تحریک بھی اس ڈویژن میں فکری لحاظ سے سب سے زیادہ موثر ہے۔ بالخصوص نوجوان طبقے کا رحجان سخت گیر موقف کی حامل قوم پرست تنظیموں کی جانب زیادہ ہے۔

بلوچستان کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر مالک بلوچ نے کہا ہے کہ حکومت نے ان سکولوں کو ملنے والی دھمکیاں بلوچستان کے عوام کے خلاف ایک سازش ہے۔

انھوں نے کہا کہ کسی کو بھی بلوچستان میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔