وزیراعظم سمیت 25 سیاست دانوں کو نوٹس جاری

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption درخواست گزار نے اسی موضوع پر 1996 میں پہلی بار درخواست دائر کی تھی

لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم نواز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سمیت 25 سیاست دانوں کو بیرون ملک اثاثوں کی پاکستان منتقلی کے کیس کے سلسلے میں نوٹس جاری کیے ہیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے درخواست گزار بیرسٹر اقبال جعفری کی درخواست پر 25 افراد کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان افراد کو حکم دیا کہ وہ 16 جون تک عدالت کو اپنے موقف سے آگاہ کریں۔

’سوئس بینکوں سے پیسہ واپس لائیں گے‘

عدالت نے نوٹس جاری کا حکم جاری کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان افراد کو ان کی ذاتی حیثیت میں نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں۔

عدالت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابقہ بیوی جمائما خان کو بھی نوٹس جاری کیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ یہ ’مفاد عامہ‘ کا معاملہ ہے اور مدعا علیہان کے نام اخبار میں مشتہر کیے جائیں۔

درخواست گزار بیرسٹر اقبال جعفری نے موقف اختیار کیا تھا کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور پاکستانی سیاست دانوں نے اربوں ڈالر کے اثاثے بیرون ملک منتقل کر رکھے ہیں۔

عدالت نے جن افراد کو نوٹس جاری کیے ہیں ان میں وزیر اعظم نواز شریف، کلثوم نواز شریف، حسین نواز شریف، شہباز شریف، بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، بیگم یوسف رضا گیلانی، چوہدری اعتزاز احسن، بشریٰ اعتزاز ، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان، جمائما خان، شاہ محمود قریشی، کاروباری شخصیت ملک ریاض، مسلم لیگی رہنما چوہدری نثار علی خان، سابق فوجی آمر ضیاالحق کے بیٹے اعجاز الحق، ہمایوں اختر عبد الرحمٰن، فیصل صالح حیات، چوہدری شجاعت حسین، پرویز الہٰی، عشرت احمد، سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر، سابق وزیر داخلہ رحمان ملک، جمیت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمٰن، سابق فوجی حکمران پرویز مشرف اور عاصمہ جیلانی شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ان اثاثوں کو ملک میں واپس لایا جائے تو بہت سے معاشی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ بہت سے سیاست دانوں نے بیرونی اثاثوں کے کیس کے حوالے سے عدالت میں حاضر ہونے کے نوٹس موصول نہیں کیے جس پر لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس خالد محمود خان نے نوٹس وصول نہ کرنے والے سیاست دانوں کے نام اخبارات میں مشتہر کر کے انھیں 16 جون کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمائما خان کو بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے

یاد رہے کہ اس ماہ کے آغاز میں پاکستانی حکومت نے کہا تھا کہ وہ پاکستانی شہریوں کی جانب سے غیر قانونی طور پر سوئس بینکوں میں رکھے گئے 200 ارب ڈالر واپس لانے کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ کی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں پارلیمانی سیکرٹری برائے خزانہ رانا محمد افضل نے ایوان کو بتایا تھا کہ کابینہ نے پاکستان اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان موجودہ ٹیکس معاہدے پر نظرِ ثانی کی منظوری دے دی ہے۔

ان کے مطابق اس معاہدے پر دوبارہ غور کرنے کے اقدام سے ان پاکستانیوں کی نشاندہی ہوگی جن کی رقوم سوئس بینکوں میں غیر قانونی طور پر رکھی ہوئی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ حکومت لاکھوں مزید ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانا چاہتی ہے اور ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد کو آٹھ لاکھ سے بڑھا کر 13 لاکھ تک لے جایا جائے گا۔

مسلم لیگ ن کی حکومت نے کچھ عرصے سے قومی خزانے میں زرِ مبادلہ میں اضافے کی کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔

حال ہی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے زیر انتظام تھری جی کے چار اور فور جی موبائل سروسز کے ایک لائسنس کی نیلامی کی گئی۔ اس نیلامی سے حکومت کو ایک ارب 11 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم حاصل ہوئی۔

اس کے علاوہ پاکستان کے مرکزی بینک نے اپنی شش ماہی رپورٹ میں کہا تھا کہ مارچ 2014 میں سٹیٹ بینک کے ذخائر پر دباؤ خاصا کم ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مارکیٹ نے خلیج تعاون کونسل کے ایک رکن ملک سے ڈیڑھ ارب ڈالر کی رقم غیر متوقع طور پر ملنے پر بہت مثبت ردعمل ظاہر کیا۔

اسی بارے میں