اسلام آباد میں کم شدت کے دھماکوں کے بعد سکیورٹی سخت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جی نائن مرکز میں دھماکہ خیز مواد گاڑی کے نیچے نصب کیا گیا تھا

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے دو مختلف علاقوں میں ہفتے کو علی الصبح ہونے والے دو دھماکوں میں ایک شخص ہلاک ہوا ہے۔

زخمی ہونے والے افراد میں سے ایک زیادہ خون بہنے کی وجہ سے چل بسا ہے۔

اسلام آباد پولیس دھماکوں کے بعد مزید چوکس: تصاویر

پولیس کے مطابق دارالحکومت میں پہلے ہی سکیورٹی ہائی الرٹ تھی اور ان دھماکوں کے بعد پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے۔

یہ دونوں دھماکے جمعے اور سنیچر کی درمیانی شب دو سے تین بجے کے درمیان ہوئے۔

پہلے دھماکے میں اسلام آباد کے سیکٹر ایف سکس کی سپر مارکیٹ کو نشانہ بنایا گیا جب کہ دوسرا دھماکہ سیکٹر جی نائن کے مرکزی بازار میں ہوا۔

سپرٹینڈنٹ پولیس اسلام آباد محمد علی نے بی بی سی اردو سروس کی نامہ نگار سارہ حسن کو بتایا کہ دھماکے زیادہ شدید نہیں تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ سپر مارکیٹ میں شاہین کیمسٹ کی پارکنگ میں ہونے والے دھماکے میں دو افراد زخمی ہوئے۔

تھانہ کوہسار کے ایس ایچ او عابد حسین نے نامہ نگار شہزاد ملک کو بتایا کہ سپر مارکیٹ میں دھماکہ اس وقت ہوا جب اعظم نامی سکیورٹی گارڈ نے شاپنگ بیگ میں پڑی کسی چیز کو ٹھوکر ماری۔

انھوں نے کہا کہ دھماکے میں سکیورٹی گارڈ کی ٹانگیں اْڑ گئیں جس کے بعد اسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا لیکن زیادہ خون بہنے کی وجہ سے وہ چل بسا۔

عابد حسین کے مطابق دوسرے زخمی شحض کے چہرے پر چھرے لگے ہیں اور اس کی حالت مستحکم ہے۔

پولیس کے مطابق سیکٹر جی نائن کراچی کمپنی میں ہونے والے دھماکے میں کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

کراچی کمپنی کا بازار شہر کے مصروف ترین بازاروں میں سے ہے اور وہاں دھماکہ خیز مواد ایک گاڑی کے نیچے لگایا گیا تھا۔

دھماکے سے مذکورہ گاڑی کو نقصان پہنچا لیکن آس پاس کھڑی گاڑیاں محفوظ رہیں۔

بم ڈسپوزل سکواڈ کے مطابق دنوں دھماکوں میں دو سے تین گلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا۔

ایس ایس پی اسلام آباد محمد علی کا کہنا تھا کہ ان دھماکوں کے بارے میں پولیس کو کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی۔

انھوں نے کہا تھا کہ شہر میں پہلے ہی سکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ان دھماکوں کے بعد پولیس کے گشت بڑھا دیے گئے ہیں اور پولیس کو مزید چوکس کردیا گیا ہے۔

حال ہی میں پاکستان میں انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) نے ملک کے بڑے شہروں میں حفاظتی انتظامات مزید سخت بنانے کے لیے فوج کو شہری حفاظتی دستوں کا حصہ بنانے کی تجویز پیش کی ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق یہ نیا سکیورٹی پلان ملک کے تمام بڑے شہروں کے لیے نافذ العمل ہوگا اور اس کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔

بڑے شہروں کے لیے بنایا گیا یہ نیا حفاظتی منصوبہ ایک ایسے وقت میں منظوری کے مراحل سے گزر رہا ہے جب طالبان شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو پا رہی۔

خیال رہے کہ پاکستانی دارالحکومت رواں برس دو مرتبہ دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے۔ دہشتگردوں نے پہلے اسلام آباد کی ضلعی کچہری اور پھر سبزی منڈی کو نشانہ بنایا اور ان دھماکوں میں درجنوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں