شمالی وزیرستان: فوجی کارروائی جاری، مزید’تین ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مقامی لوگوں نے بتایا کہ چند مقامات پر سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے مراکز اور مکانات کو مسمار کر دیا ہے

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں جمعے کو بھی سکیورٹی فورسز کی طرف سے کارروائیوں کی اطلاعات ہیں۔

علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق تازہ کارروائی میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی جس میں کم سے کم تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح میران شاہ بازار کے قریبی علاقے ماچس گاؤں میں گن شپ ہیلی کاپٹروں اور جیٹ طیاروں نے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور مراکز کو وقفے وقفے سے نشانہ بنایا۔

مقامی افراد کے مطابق تازہ کارروائی میں تین افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں لیکن سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں کی جا سکی اور نہ یہ معلوم ہو سکا ہے کہ مرنے والے افراد عسکریت پسند ہیں یا عام شہری۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان کے بیشتر مقامات پر تیسرے روز بھی کرفیو نافذ ہے جس کی وجہ سے علاقے میں تمام بازار، سرکاری دفاتر، تعلیمی ادارے اور اور تجارتی مراکز بند ہیں۔

مقامی لوگوں نے بتایا کہ چند مقامات پر سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے مراکز اور مکانات کو مسمار کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گذشتہ تین دنوں کے دوران ماچس گاؤں میں کئی مرتبہ فضائی کارروائی کی گئی ہے جس سے وہاں ہلاکتیں بھی زیادہ ہوئی ہیں۔

Image caption تازہ کارروائی میں جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں نے مشتبہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی

مقامی باشندوں نے بتایا ہے کہ علاقے میں کرفیو کے مسلسل نفاذ کے باعث علاقے میں کھانے پینے کی اشیا کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔

ابھی تک حکومت اور فوج کی طرف سے اس بات کو واضح نہیں کیا گیا ہے کہ وزیرستان میں جاری حالیہ کارروائی کوئی باقاعدہ آپریشن کا آغاز ہے یا یہ پہلے کی طرح کوئی وقتی ردعمل ہے۔

ادھر کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے بھی ان کارروائیوں پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی ہے اور ان کی جانب سے تاحال کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

خیال رہے کہ تین دن پہلے سکیورٹی فورسز نے میران شاہ اور آس پاس کے علاقوں میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی تھی جس میں فوج کے ادارے آئی ایس پی آر کے مطابق 60 کے قریب عسکریت پسند مارے گئے تھے۔

اس کے علاوہ علاقے میں ہونے والی جھڑپوں میں ایک میجر سمیت پانچ سکیورٹی اہلکار بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل وزیرستان میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر ہونے والے حملے میں نو سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حالیہ کارروائی ایسے وقت ہو رہی ہے جب حکومت اور طالبان کے درمیان مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہے۔

اسی بارے میں