پنجگور: لڑکیوں کو تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش

Image caption پنجگور کے تمام ہی نجی سکولوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے تدریسی عمل معطل ہے

بلوچستان کے شہر پنجگور کی مریم بلوچ ڈر اور خوف کے باوجود تعلیم سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے لیے زندگی کا سوال ہے۔

مریم ایک نجی سکول میں دسویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ ان کے سکول سمیت پنجگور کے تمام ہی نجی سکولوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے تدریسی عمل معطل ہے۔

ایک غیر معروف شدت پسند گروہ تنظیم الاسلامی الفرقان نے پنجگور میں ایک پمفلٹ تقسیم کیا تھا جس میں نجی سکول مالکان کو فوری طور پر سکول بند کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

اس گروہ کا الزام ہے کہ نجی سکول مغربی تعلیم کے ذریعے لڑکیوں کے کردار کو خراب کر رہے ہیں۔

مریم بلوچ کا کہنا ہے کہ انھیں معلوم نہیں ہے کہ یہ مذہبی گروہ کا کام ہے یا غیر مذہبی اداروں کا۔ وہ کہتی ہیں جس نے بھی کیا ہے غلط ہے کیونکہ ترقی تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے: ’بہت ڈر لگتا ہے، ہمارے والدین بھی پریشان ہیں کہ کہیں بچوں کو کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔‘

پنجگور اور تربت میں پچاس سے زائد نجی سکول اور لینگوئج سینٹر ہیں جہاں چار ہزار کے قریب طالب علم زیرِ تعلیم ہیں۔ ان میں سے چالیس فیصد طالبات ہیں۔

مریم بلوچ کا کہنا ہے کہ سرکاری سکولوں میں تو بالکل ہی تعلیم نہیں ہے وہاں اردو میں پڑھاتے ہیں اور جب وہ کالج میں پہنچتے ہیں تو وہاں انگریزی میں تعلیم دی جاتی ہے۔

تنظیم الاسلامی الفرقان نے تعلیمی اداروں کو بھیجےگئے دھمکی آمیز خط میں کہا ہے کہ جو بھی نجی سکول لڑکیوں کی تعلیم جاری رکھےگا اس کو اسلام کا دشمن سمجھا جائےگا۔

Image caption حکومت نے پنجگور میں پیش آنے والے واقعات کا نوٹس لیا ہے: ترجمان بلوچستان حکومت

اس کے علاوہ طالبات کو سکول اور لینگوئج سینٹر لے جانے والے ٹیکسی اور وین ڈرائیوروں کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر انھوں نے یہ سلسلہ بند نہ کیا تو انھیں بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔

پنجگور میں نجی تعلیمی اداروں اور خاص طور پر لینگوئج سینٹرز کی داغ بیل ظاہر حسین نے ڈالی تھی جو امریکہ سے فارغ التحصیل ہیں۔

ظاہر حسین کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی زیر صدارت بدھ کو ایک جرگہ بھی منعقد کیا گیا تھا جس میں تمام دانشور، سیاسی جماعتوں اور معتبرین نے یقین دہانی کرائی تھی کہ سب ساتھ ہیں سکول کھول جانے چاہیں۔

پنجگور کے بعد مکران ڈویژن کے دوسرے بڑے شہر تربت میں بھی نجی سکولوں کے مالکان اور طالبات میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ایک نجی سکول کے پرنسپل مراد اسماعیل کا کہنا ہے کہ دونوں علاقے قریب ہیں اس وجہ سے یہ خدشہ ہے کہ اس نوعیت کا واقع یہاں نہ ہوجائے۔

مکران ڈویژن کے اضلاع پنجگور اور تربت کا شمار بلوچستان کے ان اضلاع میں ہوتا ہے جہاں روشن خیالی کی جڑیں مضبوط اور سرداری نظام کمزور ہے۔

بلوچستان سٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کی وائس چیئرمین کریمہ بلوچ کا کہنا ہے کہ بلوچ خواتین میں بڑے پیمانے پر سیاسی شعور آیا ہے اور وہ سیاسی عمل میں بھی حصہ لے رہی ہیں اسی لیے انھیں تعلیم سے دور رکھنے کی کوشش ہو رہی ہے۔

کریمہ کے بقول ریاستی ادارے ان سکولوں کو بند کر کے وہاں مدارس قائم کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جیسے بلوچستان کے دیگر علاقوں کے مدارس میں یہ تعلیم دی جا رہی ہے کہ پاکستان اسلامی ملک ہے اور اس کے خلاف بات کرنے والے اسلام کے خلاف بول رہے ہیں اس لیے انھیں نہیں چھوڑنا چاہیے۔

بلوچستان حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں سکول جانے والے بچوں کی تعداد صرف 13 لاکھ ہے جبکہ 23 لاکھ سے زائد بچے سکول نہیں جاتے۔ صورتحال میں بہتری کے لیے صوبائی حکومت نے تعلیمی ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے۔

بلوچستان حکومت کے ترجمان جان بلیدی کا کہنا ہے کہ حکومت نے تعلیم کو اولیت دے رکھی ہے جو چھوٹے چھوٹے مسائل ہیں جس سے تعلیم متاثر ہوتی ہے ان میں بہتری لائی جا رہی ہے۔

’پنجگور میں جو واقع پیش آیا ہے اس قسم کے واقعات ملک کے دیگر علاقوں میں تو پیش آتے رہے ہیں لیکن بلوچستان میں نہیں۔ اس لیے حکومت نے اس کا سخت نوٹس لیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ پتہ لگایا جائے کہ یہ اس میں کونسا گروہ ملوث ہیں اور حکومت پر امید ہے کہ جلد اس گروپ تک رسائی حاصل کرلی جائے گی۔‘

پنجگور میں جمعے کو تمام تعلیمی اداروں اور فورسز کا بھی مشترکہ اجلاس منعقد ہوگا، جس میں سکول کھولنے یا آئندہ ہفتے بھی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

اسی بارے میں