’ٹوئٹر نے پاکستانی درخواست پر ٹویٹس بلاک کیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption پاکستان نےمئی 2012 میں چندگھنٹوں کےلیے ٹوئٹر کو بلاک کیا تھا

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق ٹوئٹر نے رواں ماہ پاکستان کی ٹویٹس یا ٹوئٹر اکاؤنٹ بلاک کرنے کی پانچ درخواستیں قبول کی ہیں۔

اخبار کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سماجی رابطے کی مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ نے اپنی نئی پالیسی کے تحت کسی ملک کی درخواست پر کسی صارف کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کو بلاک کیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان نے میں مبینہ طور پر مذہب کی توہین کرنے والے بلاگروں کے اکاؤنٹ بلاک کرنے اور توہین مذہب کے زمرے میں آنے والی ٹویٹس اور سرچ کو روکنے کے لیے کہا تھا۔

ٹوئٹر پر پابندی کی وجہ کیا تھی؟

ٹوئٹر نے 2012 میں ایک نئی پالیسی متعارف کروائی تھی جس کے تحت وہ ملک کی مقامی سنسر شپ پالیسی کے اکاؤنٹس، ٹویٹس یا سرچز کو بلاک کرےگا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ایک اہلکار عبدالباطن نے مئی میں پانچ ایسی درخواستیں ٹوئٹر کو بھیجیں جن میں مخصوص اکاؤنٹس، ٹویٹس اور سرچز کو روکنے کا کہاگیا تھا۔ یہ تمام درخواستیں ایسے اکاؤنٹس، ٹویٹس اور سرچز کے بارے میں تھیں جن میں مبینہ طور پر مذہب یا رسالت کی توہین کی گئی تھی۔

پاکستان نے مئی 2012 میں کچھ گھنٹوں تک ملک میں ٹوئٹر تک رسائی اس وقت روک دی تھی جب فیس بک پر پیغمبرِ اسلام کی تصاویر بنانے کا ایک مقابلے کا انعقاد کیا گیا تھا اور اس کی تصاویر فیس بک پر جاری کی گئی تھیں۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے اس وقت ٹوئٹر کو بلاک کر دیا تھا جب اس نے فیس بک پر ہونے والے مقابلے سے متعلق ٹویٹس روکنے سے انکار کیا تھا۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق پاکستان کی طرف سے سنسرشپ کی درخواستیں ایسے وقت موصول ہوئی ہیں جب پاکستان میں توہین مذہب سے متعلق قانون پر بحث ایک خطرناک رحجان اختیار کرتی جا رہی ہے اور اس قانون کے خلاف بات کرنے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پاکستان میں بڑے پیمانے پر ٹوئٹر کا استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاست دان، کرکٹ کے کھلاڑی اور مشہور شخصیات سبھی ٹوئٹر کا استعمال کرتے ہیں۔

اسی بارے میں