’فوج کو شہری سکیورٹی سونپنے کا فیصلہ نہیں ہوا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مسلح افواج کی مدد، تعاون اور مشورہ لینے کا غلط مطلب لیا گیا ہے

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ملک کے اہم شہروں کی سکیورٹی فوج کو سونپنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

سینیچر کو وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ذرائع ابلاغ کے ایک حصے نے انسداد دہشت گردی کے قومی ادارے (نیکٹا) کا تعلق اس معاملے سے جوڑا ہے جو کہ صحیح نہیں۔

بیان کے مطابق وزیرِ داخلہ نے وضاحت کی ہے کہ نہ تو دارالحکومت اسلام آباد سمیت ملک کے بڑے شہروں کے حفاظتی انتظامات فوج کے حوالے کرنے کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے اور ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبروں کے برعکس ’نیکٹا‘ کا اس سارے معاملے سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق بھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر سویلین اداروں کو مضبوط بنانے کے لیے مسلح افواج کی مدد، تعاون اور مشورہ لینے کا غلط مطلب لیا گیا ہے۔

چوہدری نثار نے یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ بھی کوئی نیا نہیں اور اس پر کافی عرصے سے کام ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ چونکہ یہ سارا معاملہ ابھی زیرِ غور اور زیرِ بحث ہے اس لیے اس بارے میں حتمی رائے دے دینا قبل از وقت ہوگا جیسا کہ ذرائع ابلاغ کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں