نواز شریف کا مودی کی حلف برداری میں شرکت کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تقریبِ حلف برداری میں ’سارک‘ کے رہنماؤں کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف کی بھارت کے نومنتخب وزیرِ اعظم نریندر مودی کی تقریبِ حلف برادری میں شرکت کی تصدیق کر دی ہے۔

برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کا کوئی وزیرِاعظم اپنے کسی بھارتی ہم منصب کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوگا۔

نواز بھارت جائیں گے

دفترِ خارجہ کی جانب سے سنیچر کو جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف 26 مئی کو دو روزہ دورے پر نئی دہلی جائیں گے اور پیر کو تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے بعد منگل 27 مئی کو وزیر اعظم مودی سے ملاقات بھی کریں گے۔

بیان کے مطابق پاکستانی وزیراعظم اپنے بھارتی ہم منصب کے علاوہ بھارت کے صدر سے بھی ملیں گے۔

دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم کے ہمراہ ان کے امورِ خارجہ کے مشیر سرتاج عزیز، امورِ خارجہ کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی، وزارتِ خارجہ کے سیکریٹری بھی اس دورے میں شریک ہوں گے۔

بھارت کے نو منتخب وزیراعظم نریندر مودی نے سرکاری طور پر وزیراعظم نواز شریف سمیت جنوبی ایشیا کی علاقائی تعاون کی تنظیم ’سارک‘ کے رہنماؤں کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں شریک ہونے کی دعوت دی تھی۔

واضح رہے کہ گذشتہ سال وزیرِ اعظم نواز شریف نے بھارت کے سابق وزیرِ اعظم من موہن سنگھ کو اپنی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی تھی لیکن وہ اس میں شریک نہیں ہوئے تھے۔

دوسری جانب بھارت میں حال ہی میں برسر اقتدار آنے والی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے نواز شریف کے بھارت آنے کے فیصلے پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر نے بھارتی میڈیا کو بتایا: ’یہ بہت خوشی کی بات ہے۔ پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے کی سمت نیا آغاز ہے۔‘

مبصرین کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کو تقریب میں شرکت کی دعوت دینا خاصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ نومنتخب وزیراعظم نریندر مودی کا پاکستان کے بارے میں موقف سخت رہا ہے اور وہ متعدد بار پاکستان پر تنقید کر چکے ہیں۔

اس سے پہلے 16 مئی کو انتخابات میں واضح اکثریت حاصل کرنے پر نواز شریف نے نریندر مودی کو فون کر کے مبارک باد دی تھی اور انھیں پاکستان آنے کی دعوت دی تھی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے جامع مذاکرات کا سلسلہ سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے۔

نواز شریف نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ دیا تھا اور کچھ عرصہ قبل وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارت کے دورے کے موقعے پر کہا تھا کہ وہ

نریندر مودی کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ بھارت میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی دونوں ممالک میں جامع مذاکرات شروع کرنے پر کوئی پیش رفت ہو سکے گی۔

سیاسی جماعتوں کا خیرمقدم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیراعظم کی حلف برداری میں شرکت تمام معاملات کے پرامن حل کی خواہش کا اظہار ہے:فضل الرحمان

پاکستان کی اہم سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے بھارت کے نو منتخب وزیر اعظم نریندر مودی کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ حلف برداری میں شرکت کی دعوت قبول کر کے حکومت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ بھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کا پرامن حل چاہتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے صدر مخدوم جاوید ہاشمی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم کا دورہ ملک کے مفاد میں ہے اور اس سے پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسائل پر پیش رفت ہوگی۔

ادھر پاکستان کے وفاقی وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے کہا ہے کہ حکومت بھارتی انتخابات میں عوام کی رائے کا احترام کرتی ہے۔

سینیچر کو لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ آنے والے نسلوں کی بہتری کے لیے پاکستان اور بھارت کو ماضی کی تلخیوں کو بھولنا ہو گا۔

پرویز رشید نے کہا کہ آئندہ پانچ سال کے لیے بی جے پی نے ہی بھارت کی پالیسیاں بنانی ہیں اور ’ماضی کے کرب کے ساتھ مستقبل نہیں گزارا جا سکتا۔‘

پرویز رشید کے مطابق اچھے مستقبل کے لیے دونوں ممالک کو اچھی بنیاد رکھنا ہوگی۔

اسی بارے میں