151 بھارتی قیدی رہا، ملاقات سے قبل خیرسگالی کا اظہار؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ایک اندازے کے مطابق اب بھی سینکڑوں پاکستانی و بھارتی ماہی گیر دونوں ممالک کی جیلوں میں قید ہیں

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف کے دورۂ بھارت سے ایک دن قبل پاکستان نے ڈیڑھ سو سے زیادہ بھارتی قیدیوں کو رہا کر دیا ہے۔

نواز شریف پیر کو بھارت کے نو منتخب وزیراعظم نریندر مودی کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے دو روزہ دورے پر نئی دہلی جا رہے ہیں۔

برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کا کوئی وزیرِاعظم اپنے کسی بھارتی ہم منصب کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوگا۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کے مطابق یہ بھارتی قیدی ماہی گیر تھے جو حیدر آباد اور کراچی کی جیلوں میں قید تھے۔

پی ٹی وی کے مطابق ان قیدیوں کو ان کی 57 کشتیاں بھی لوٹائی جائیں گی ۔

حکام کا کہنا ہے کہ 92 بھارتی قیدیوں کو حیدر آباد جبکہ 59 کو کراچی کی ملیر جیل سے رہا کیا گیا ہے

کراچی کی ملیر جیل کے ڈپٹی سپرٹینڈنٹ محمد حسن سہتو نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہاں سے رہا ہونے والوں میں 58 ماہی گیر اور ایک ایسا بھارتی شہری ہے جو غیرقانونی طور پر سرحد عبور کر کے آیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’اس کے علاوہ حیدرآباد کی نارا جیل سے بھی 92 قیدیوں کو رہا کیا جا رہا ہے جنھیں یہاں سے وہاں منتقل کیا گیا تھا۔‘

رہائی کے بعد ان قیدیوں کو لاہور لے جایا جائے گا جہاں پیر کو پاکستانی حکام واہگہ کی سرحد پر انھیں بھارتی حکام کے حوالے کریں گے۔

بھارت بھی ماضی میں پاکستانی ماہی گیر رہا کرتا رہا ہے اور ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک فورم کا کہنا ہے کہ بھارتی جیلوں میں اس وقت 200 سے زائد پاکستانی ماہی گیر قید ہیں۔

پاکستان کے سرکاری ٹی وی کا کہنا ہے کہ ان بھارتی قیدیوں کی رہائی جذبۂ خیرسگالی کے تحت عمل میں آئی ہے۔

پاکستانی وزیرِ اعظم کے مجوزہ دورۂ بھارت کو بھی ان دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption قیدیوں کو پیر کو پاکستانی حکام واہگہ کی سرحد پر بھارتی حکام کے حوالے کریں گے

مبصرین کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کو نریندر مودی کی جانب سے تقریبِ حلف برداری میں شرکت کی دعوت دینا خاصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ مودی کا پاکستان کے بارے میں موقف سخت رہا ہے اور وہ متعدد بار پاکستان پر تنقید کر چکے ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان تعلقات میں بہتری کے لیے جامع مذاکرات کا سلسلہ سنہ 2008 میں ممبئی حملوں کے بعد سے رکا ہوا ہے۔

نواز شریف نے اقتدار میں آنے کے فوراً بعد بھارت کے ساتھ تعلقات میں بہتری کا عندیہ دیا تھا اور کچھ عرصہ قبل وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے بھارت کے دورے کے موقعے پر کہا تھا کہ وہ نریندر مودی کے ساتھ کام کرنے پر تیار ہیں۔

انھوں نے کہا تھا کہ بھارت میں نئی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی دونوں ممالک میں جامع مذاکرات شروع کرنے پر کوئی پیش رفت ہو سکے گی۔

پاکستان کے وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے بھی سینیچر کو لاہور میں صحافیوں سے بات چیت میں کہا تھا کہ آنے والے نسلوں کی بہتری کے لیے پاکستان اور بھارت کو ماضی کی تلخیوں کو بھولنا ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ پانچ سال کے لیے بی جے پی نے ہی بھارت کی پالیسیاں بنانی ہیں اور ’ماضی کے کرب کے ساتھ مستقبل نہیں گزارا جا سکتا۔‘

پرویز رشید کے مطابق اچھے مستقبل کے لیے دونوں ممالک کو اچھی بنیاد رکھنا ہوگی۔

اسی بارے میں